افغانستان میں 20 سالہ کرپشن: امریکی رپورٹ پاکستان کے خدشات کی تصدیق کرتی ہے
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
کابل / نیوز ڈیسک – امریکی کانگریس کے آفس برائے خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان بحالی (SIGAR) کی حتمی رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں 20 سالہ جنگ صرف عسکری محاذ نہیں بلکہ کھربوں ڈالر کی منظم بدعنوانی کا ایسا باب تھا جس کی مثال شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں 2400 ارب ڈالر خرچ کیے، جن میں تعمیرِ نو کے لیے مختص 144 ارب ڈالر یورپ کے ‘مارشل پلان’ سے بھی زیادہ تھی، لیکن اس کے باوجود نہ کوئی مضبوط ادارہ قائم ہو سکا اور نہ ہی افغان عوام کی زندگی بہتر ہوئی۔
یہ رپورٹ پاکستان کے دیرینہ موقف کی تصدیق کرتی ہے کہ امریکہ کی جلد بازی میں واپسی کے بعد تقریباً 7.1 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگا، جو اب ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ذریعے پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
رپورٹ میں افغان نیشنل آرمی کے بارے میں بھی تشویشناک انکشاف کیا گیا ہے کہ ہزاروں فرضی ملازمین صرف کاغذوں پر موجود تھے، اور یہ ادارہ غیر ملکی امداد کے بغیر ایک دن بھی قائم نہ رہ سکتا تھا۔
افغانستان میں کرپشن کا دائرہ وسیع تھا، جہاں گاڑیوں کے ایندھن سے لے کر عوامی فلاح کے فنڈز تک سب ملی بھگت سے ہڑپ کیے گئے۔ امداد کا زیادہ حصہ افغان شہریوں تک نہیں پہنچا بلکہ کرپٹ حکمرانوں اور مخصوص گروہوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوا۔
امریکی سیاسی ناکامی اس بات سے بھی عیاں ہے کہ پہلے Bonn Agreement میں طالبان کو خارج کیا گیا اور پھر دوحہ مذاکرات میں افغان حکومت کو نظر انداز کیا گیا، جس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا۔
موجودہ صورتحال میں بھی عالمی برادری کی انسانی ہمدردی کی امداد شفافیت کی کمی کی وجہ سے دوبارہ کرپٹ راستوں پر جا رہی ہے، جس سے افغانستان میں انسانی المیہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
Comments are closed.