بابری مسجد کی مسماری کو 33 برس مکمل—غلام محمد صفی کا بھارت میں بڑھتے ہندوتوا جبر پر شدید ردِعمل
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
اسلام آباد — کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے بابری مسجد کی مسماری کے 33 برس مکمل ہونے پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ 6 دسمبر 1992 بھارت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، جس نے نہ صرف بھارتی سیکولرازم کا حقیقی چہرہ بے نقاب کیا بلکہ ریاستی سرپرستی میں پروان چڑھتی ہندوتوا انتہاپسندی کے خطرناک عزائم کو پوری دنیا پر آشکار کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ پانچ صدی پرانی تاریخی بابری مسجد کا انہدام کسی ہجوم کا خود رو فیصلہ نہیں تھا بلکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی اعلیٰ قیادت کے زیرِ نگرانی ایک منظم منصوبہ تھا، جس کا مقصد بھارت کی سیاست کو مذہبی بنیادوں پر ازسرِ نو تشکیل دینا تھا۔
صفی نے کہا کہ 1992 کے المناک مناظر آج بھی عالمی مسلم برادری کی اجتماعی یادداشت میں نقش ہیں۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی واضح گواہی ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتیں مسلسل عدم تحفظ، امتیازی سلوک اور ریاستی جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بھارتی سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے — جس میں بابری مسجد کی زمین ہندو اکثریت کو دے دی گئی — کو انصاف کے اصولوں سے انحراف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عدلیہ کے بھی ہندوتوا اثر و رسوخ سے محفوظ نہ رہنے کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا انہدام مسلمانوں کے مذہبی ورثے کو مٹانے کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ تھا، جس کا تسلسل آج پورے بھارت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بی جے پی حکومت کے زیرِانتظام ہزاروں مساجد کو مندر سازی کی مہم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو براہِ راست مسلمانوں کی مذہبی شناخت پر حملہ ہے۔
انہوں نے مودی انتظامیہ اور بھارتی قابض فورسز کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد کی تالہ بندی، نمازِ جمعہ پر پابندی، لاؤڈ اسپیکروں کی ضبطی اور عبادت گاہوں پر چھاپوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات مذہبی آزادی کی بدترین خلاف ورزی ہیں۔ ان کے مطابق وادیٔ کشمیر میں مساجد کی بےحرمتی ہندوتوا منصوبے کا تسلسل ہے، جس کا مقصد کشمیری مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو کمزور کرنا اور انہیں مستقل خوف و جبر کی فضا میں رکھنا ہے۔
صفی نے خبردار کیا کہ مودی سرکار کے فاشسٹ اقدامات بھارت کو ایسے خطرناک راستے پر ڈال رہے ہیں جسے ماہرین ممکنہ نسلی تطہیر سے تعبیر کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی سیاست اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ پورے خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم جبر، کشمیر میں مذہبی پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور بھارتی حکومت کو اس کے جرائم پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ بابری مسجد آج بھی حق، انصاف اور مزاحمت کی علامت ہے۔ تینتیس برس بعد بھی یہ سوال برقرار ہے کہ کیا کوئی ریاست طاقت اور تعصب کے زور پر انصاف کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر سکتی ہے۔ حریت کانفرنس حقِ خودارادیت اور مذہبی آزادی کی جدوجہد جاری رکھے گی اور عالمی برادری سے اس میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کرتی ہے۔
Comments are closed.