بلوچستان کا بجٹ 16 جون کو پیش ہوگا حکومت بلوچستان کو 120ارب روپے خسارے کا سامنا۔
بلوچستان کا بجٹ 16 جون کو پیش ہوگا حکومت بلوچستان کو 120ارب روپے خسارے کا سامنا۔
بجٹ کا مجموعی حجم 700 ارب روپے تک ہوگا محکمہ خزانہ نے بجٹ کی تیاری کا کام شروع کردیا, روا مالی سال کے دوران حکومت نے سیلاب اور زلزلے کی وجہ سے 40 ارب روپے کے اضافی اخراجات کئے۔
بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ 16 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے محکمہ خزانہ نے بجٹ اجلاس 12 جون کو بلانے کی سمری صوبائی حکومت کو بھجوا دی, بجٹ کا حجم 700 ارب روپے تک ہونے کا امکان محکمہ خزانہ بلوچستان کے ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ بلوچستان نے بجٹ کو حتمی شکل دینے کا کام تیز کردیا ہے ذرائع کے مطابق بلوچستان کے 2023-24 کے بجٹ کا حجم 700 ارب روپے تک اور 120 ارب روپے کے قریب خسارے ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے دوران بلوچستان میں سیلاب کے دوران ہونے والے اخراجات ترکی اور شام کے زلزلہ زدگان کے لیے دی گئی امداد کی وجہ سے صوبے نے کم وبیش 40 ارب روپے کے اضافی اخراجات کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ کا حجم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران ترقیاتی بجٹ 200 ارب روپے کے لگ بھگ ہو سکتا ہے جس میں صوبے کے تمام صوبائی حلقوں کو یکساں بنیادوں پر ترقیاتی فنڈز دیئے جائینگے مختلف محکموں میں 5 ہزار سے زائد ملازمتیں فراہم کرنے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ فلحال صوبے کے جامعات کی گرانٹ ایڈ 2.5 ارب روپے رکھنے پر ہی اتفاق ہوا تاہم حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے دوران صوبے کے اپنے محصولات سے آمدن 35 ارب روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے آئندہ بجٹ میں بنیادی سہولیات کی فراہمی صحت تعلیم سمیت دیگر شعبوں کی موجودہ عمارتوں کی فعالی لنک روڈز سمیت دیگر منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔
Comments are closed.