دہشتگرد عناصر پاکستان میں امن نہیں چاہتے ،قیام امن کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا،رانا ثنا اللہ

4

 لاہور۔8فروری  :وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد شناختی کارڈ دیکھ کر بچوں اور خاندانوں کو گولیاں مار دیتے ہیں اور ان معصوم شہریوں کی لاشیں پورے پنجاب میں پہنچتی ہیں، لیکن کیا کبھی کسی نے یہ کہا کہ یہ کارروائیاں بلوچستان کے عوام کروا رہے ہیں؟ ہم سب متفق ہیں کہ یہ عناصر دہشت گرد ہیں جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے،سکیورٹی فورسز کی دہشتگردی کے خلاف موثرکارروائیاں جاری ہیں تاہم قیام امن کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا ۔وہ اتوار کو لاہور کے مقامی ہوٹل میں "جمہوریت اور قانون کی حکمرانی”کے موضوع پر دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کر رہے تھے ۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کو دو الگ نوعیت کے سنگین بحرانوں کا سامنا ہے اور دونوں کے حل کے لیے طریقہ کار بھی الگ الگ ہونا چاہیے، تاہم ہم ایک ہی طرزِ عمل اختیار کر کے غلطی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس کے واقعے کی ویڈیوز سب نے دیکھی ہوں گی مگر اس کے باوجود پنجاب نے بلوچستان کو لعن طعن کا نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افراد اربوں روپے کا کاروبار کر رہے ہیں اور آج تک ایک بھی مثال موجود نہیں کہ پنجاب میں کسی بلوچ کو محض اس کی شناخت کی بنیاد پر برا بھلا کہا گیا ہو۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ہر سطح پر یہ بات کہی گئی کہ یہ کارروائیاں دہشت گردوں کی ہیں، نہ کہ کسی صوبے یا قوم کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا جعفر ایکسپریس کے واقعے کے روز بھارتی میڈیا پر جشن کا سماں نہیں تھا؟ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن قوتیں پاکستان میں بدامنی چاہتی ہیں

Web Desk

Comments are closed.