موسمیاتی دہشتگردی کسی بھی دوسری دہشتگردی سے زیادہ خطر ناک ہے ،موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں، ڈاکٹر مصدق ملک

6

لاہور۔8فروری  وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات کا سامنا ہے،موسمیاتی دہشتگردی کسی بھی دوسری دہشتگردی سے زیادہ خطر ناک ہے ،ملک میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے 2 کروڑ بچے سکولوں سے محروم ہو چکے ہیں،عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے ،دنیا کے 10 بڑے کاربن اخراج کرنے والے ممالک 70 سے 75 فیصد آلودگی کے ذمہ دار ہیں، خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں،نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ،نوجوانوں کے لیے گرین فیلڈ پروگرام متعارف کرایا جارہا ہے،حکومت متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے 300 روزہ خصوصی منصوبے پر عمل پیرا ہے،محفوظ مستقبل کیلئے ہمیں آلودگی پر قابو پانا ہوگا، ماحولیاتی تحفظ ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے،موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں،چھوٹے ڈیمز بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے،،گلیشیئرز کا پگھلا ﺅقدرتی آفات کو جنم دے رہا ہے ، آنے والی نسلوں کو محفوظ پاکستان دینا ہماری ذمہ داری ہے ، ماحولیاتی تحفظ یقینی بنانے کے لئے نوجوانوں کا اہم کردار ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز مقامی ہوٹل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی دہشتگردی کسی بھی دوسری دہشتگردی سے زیادہ خطر ناک ہے ،پاکستان جیسے ممالک موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات کا سامنا کر رہے ہیں،گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں آنے والے سیلابوں میں 6 ہزار سے زائد افراد جاں بحق، 19 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے 4 کروڑ پاکستانی سیلاب کے باعث بے گھر ہوئے جن میں 50 فیصد بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلابوں سے جہاں انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا ،وہیں تعلیمی نظام کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے، ہزاروں اسکول تباہ ہو گئے ہیں، 2 کروڑ بچے اسکول سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کو نئی قسم کی دہشت گردی قرار دے دیا گیا ہے، ایک سیلاب ملکی ترقی کی رفتار ختم کر دیتا ہے، ایک بڑے سیلاب سے قومی معیشت کو جی ڈی پی کے 9.8 فیصد کے برابر نقصان ہوا ہے ،پاکستان کی سالانہ معاشی نمو 3 سے 4 فیصد پر آگئی ہے ،چھوٹے کسانوں کی فصلیں تباہ، بیج اور کھاد تک رسائی ختم ہو چکی ہے ، سیلاب کی تباہیوں کی بدولت لاکھوں خاندان دوبارہ غربت میں دھکیل دئیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زمین پر درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں،گلیشیئر پگھلنے سے شدید سیلابوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے ،دنیا کے 10 بڑے کاربن اخراج کرنے والے ممالک 70 سے 75 فیصد آلودگی کے ذمہ دار ہیں جبکہ خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حیران کن انکشاف ہے کہ یہی 10 ممالک دنیا کی صرف 8 فیصد گرین فنانسنگ حاصل کر رہے ہیں،بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک خود بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ متاثرہ ممالک محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو گرین بزنس نہ کرنے پر برآمدات بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ،یورپی منڈیوں تک رسائی کو گرین اسٹیمپنگ سے مشروط کر دیا گیا ہے، بدقسمتی سے کاربن اخراج کرنے والے ممالک خود پیسے رکھ رہے ہیں، دوسروں پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے موسمیاتی انصاف کو عالمی برادری کی بڑی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر نئی صنعتی پالیسی کا نفاذ شروع ہونے جا رہا ہے ،طاقتور ممالک کی اصل پالیسی سامنے آ گئی ہیں اور عالمی کلائمیٹ سیاست کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے ، موسمیاتی انصاف کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ،وزارت کا آئندہ سال واحد فوکس نوجوانوں کے لیے کیپٹل ریزنگ ہے،نوجوانوں کے لیے گرین فیلڈ پروگرام متعارف کرایا جارہا ہے، طلبہ کو نئے آئیڈیاز اور بزنس ماڈلز پر کیپٹل فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کالج سے فارغ التحصیل ہر طالب علم کے لیے بزنس کمپٹیشن ہوگا،منتخب آئیڈیاز کو عالمی سطح پر سرمایہ کاری سے جوڑا جائے گا،نوجوانوں کو بیرون ملک سرمایہ کاروں سے ملوایا گیا ہے، حکومت نوجوان انٹرپرینیورز کی سرپرستی کرے گی۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی دہشتگردی کسی بھی دوسری دہشتگردی سے زیادہ خطر ناک ہے ، پچھلے چار سیلابوں میں ایک اندازے کے مطابق چھ ہزار سے زائد لوگ جاں بحق جبکہ 19 ہزار لوگ زخمی ہو چکے ہیں ،2 کروڑ بچے سیلابوں کی وجہ سے سکول نہیں جا سکے کیونکہ سیلاب سے سکول بھی بہہ جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے کسی نے پوچھا کہ کلائمیٹ چینج کیا ہے ،میرے ذہن میں سیلاب سے متاثرہ ایک بچے کی تصویر آئی جس کے ہاتھ میں پھٹی ہوئی کتاب تھی، اس کا گھر سیلاب میں بہہ چکا تھا ،وہ حیران آنکھوں سے اپنے باپ کی طرف دیکھ رہا تھا،ایک خاندان تھا جس کے پاس ایک بھینس اور چند بکریاں تھی جو سیلاب میں بہہ گئیں،اب اس خاندان کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا ،ایک پوری نسل کو خط غربت سے نکالنے والی لکیر ساتھ ہی بہہ گئی۔انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب میں لوگوں کی فصلیں بہہ گئیں ، تباہی آئی اور چلی گئی لیکن بعد میں بحالی کا کوئی راستہ نہیں تھا،چار چار چھ چھ ماہ تک لوگ دوبارا آباد نہیں ہو پاتے۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے حالیہ سیلابوں کو ملک کے لیے ایک بڑا معاشی اور ڈھانچہ جاتی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے 300 روزہ خصوصی منصوبے پر عمل پیرا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا حل عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ کا حصول نہیں ہے ، بدقسمتی سے ہمارے بجٹ کا زیادہ حصہ قرض اتارنے میں چلا جاتا ہے ، ہمیں بطور قوم مل کر ان مسائل کا حل نکالنا ہے،حالیہ سیلاب کی تباہیوں کے ازالہ کے لیے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبے شروع کئے جائیں گے ،سیلاب میں ہماری جن چیزوں کو نقصان پہنچا ان کو تین سو دن میں ٹھیک کریں گے

Web Desk

Comments are closed.