امت کو درپیش تمام مسائل کا حل سائنس اور ٹیکنالوجی کو ترجیح دینے میں ہے، کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک

2

اسلام آباد۔13دسمبر (نمائندہ عسکر):کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے 10 سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں پاکستان سمیت اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے پانچ ممالک شامل ہیں، امت کو درپیش تمام مسائل کا حل سائنس اور ٹیکنالوجی کو ترجیح دینے میں ہے، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا کی تقسیم ترقی پذیر ممالک میں وسائل، دولت یا سرمائے کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ فرق علم کی کمی کی وجہ سے ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کامسٹیک میں میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی امریکہ، افریقہ، یورپ اور ایشیا سے او آئی سی کے 57 رکن ممالک ہیں جن کی آبادی 1.9 ارب ہے، اقوام متحدہ کے مطابق 23 رکن ممالک کم ترقی پذیر ہیں جبکہ 2.97 فیصد ہائی ٹیکنالوجی برآمد کرتے ہیں اور عالمی پیٹنٹ کا 1.6 فیصد حاصل کرتے ہیں۔ کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک نے کہا کہ تحقیق اور ترقی کے اخراجات جی ڈی پی کا 0.3 فیصد ہے جو عالمی اوسط سے کافی کم ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ او آئی سی خطے کی صرف 17 یونیورسٹیاں ٹاپ 50 میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کو درپیش چیلنجز میں بڑے پیمانے پر غربت، بے روزگاری، عدم مساوات، خواتین کی ناخواندگی، تنازعات، انسانی آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی، سیاسی عدم استحکام اور جمہوری عمل میں مسلسل خلل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 180 ملین لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے 10 سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے 5 او آئی سی خطے میں ہیں جن میں پاکستان، موزمبیق اور مالدیپ شامل ہیں۔

کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک نے کہا کہ غیر فعال تعلیمی نظام اور180 ملین سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس ہی ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے جبکہ سبز انقلاب بھوکوں کو کھانا کھلا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس اور اینٹی وائرلز آج لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچا رہے ہیں، بائیو ٹیکنالوجی، اعضاءکی تھری ڈی پرنٹنگ، جین ایڈیٹنگ، سمارٹ کمپیوٹر، مصنوعی بیکٹیریا اور نینو ٹیکنالوجی ہمارے اردگرد کی دنیا کو نئے سرے سے متعین کررہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے اس موقع پر او آئی سی ممالک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے کامسٹیک پروگراموں، ماضی کی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں کی ایک جامع رپورٹ پیش کی۔ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے نیٹ ورکنگ اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز بہت مددگار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے امت کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کے لیے وسائل کو متحرک کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ بریفنگ میں پرنٹ، الیکٹرانک اور آن لائن میڈیا کے افراد نے شرکت کی۔

Web Desk

Comments are closed.