کم عمری کی شادی بچیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ بلوغت کی عمر بچیوں کی زندگی کا نازک ترین دور ہوتا ہے جس میں کسی قسم کا صدمہ، بیماری یا کمزوری ان بچیوں کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہے۔

چنانچہ پاکستان میں بچیوں کی شادی کی لئے ان عمر بڑھاناضروری ہے۔ بچیوں کی شادی کی کم سے کم عمر کا تعین کرنے کے لیے قانون سازی اور اس پر عمل درامد کرنے کی ضرورت ہے۔ شادی سے پہلے بچیوں کو خاندانی اور معاشرتی معاملات سے آگاہی ہونابے حد ضروری ہے۔ بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جائے تا کہ انہیں شعور حاصل ہو۔ ماں کو تعلیم دیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ ایک عورت باشعور ہو تو پوری نسل کو تبدیل کر دیتی ہے۔ پنجاب میں مشاورت سے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جا رہا ہے۔ کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے صوبائی سطح پر منعقدہ مشاورتی پروگرام کا انعقاد و قت کی اہم ضرورت ہے۔ کم عمری کی شادی بچوں کو بنیادی انسانی حقوق جن میں تعلیم اور صحت کے حق سر فہرست ہے سے محرم کر دیتی ہے۔کم عمری کی شادی ہماری معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ہمیں مل کر باہمی مشاورت اور تعاون سے اس رواج کا خاتمہ کرنا یوگا۔متعلقہ ادارے کم عمری کی شادی پر قوانین میں تبدیلی کے لیے ہر دم کوشاں ہے تاکہ مثبت معاشرتی تبدیلی لائی جا سکے۔مشاورت کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کے ہمراہ کم عمری کی شادی کی وجوہات، محرکات، نتائج اور خاتمہسنجیدگی سے لائحہ عمل کرنا ہو گا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں محکمہ بہبود آبادی کے دفاتر میں تعینات عملے کے کام کی آن لائن لائیو وڈیو مانیٹرنگ اور اس کے لیے مرکزی مانیٹرنگ اور کنٹرول روم قائم کیا ہے۔ اس مقصدکیلئے سیکر ٹری پاپولیشن اور ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئرنے وزیر اعلیٰ کے ویژن کے مطابق محکمہ کی طرف سے کئے جانے والے کاموں، بجٹ اور کاموں کے بارے میں مانیٹرنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ شہریوں کو ضروری معلومات اور رہنمائی کی فراہمی کے لیے چار ہندسوں پر مشتمل ہیلپ لائن قائم کرنے اور اسے روزانہ 12 گھنٹے فعال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس مقصد کے لئے محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے ایک موثر میڈیا مہم چلائی جارہی ہے۔ محکمے کے کاموں کی اہمیت کے پیش نظر عملے کی تربیت کے لیے ایک جامع نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ عوامی آگاہی کے پیغامات اور پروگراموں کی تیاری کے لیے پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں اسٹوڈیو قائم کیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ‘چھوٹے خاندان کا خوشحال پاکستان’ کے نعرے کو فروغ دینا ہو گا۔ محکمہ بہبود آبادی کی تنظیم نو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق کی جارہی ہے۔ صوبہ بھر میں محکمہ کے سوشل موبلائزرز اور فیلڈ ورکرز کی کارکردگی قابل ذکر ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب کے مختلف منصوبوں کی رپورٹنگ اور مانیٹرنگ کے لیے ویب پورٹلز اور ڈیش بورڈز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں ای رجسٹریشن، سٹریٹجک مینجمنٹ یونٹ، علمائے کرام اور خطیبوں سے رابطے، خدمات کو مضبوط بنانے اور سروس ڈیلیوری پروگرام شامل ہیں۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ٹیم نے تمام ڈیش بورڈز اور پورٹلز بنانے میں بے حد معاونت کی ہے۔

باخبر انتخاب کرنا اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق خاندان قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کے درمیان مشاورت ایک خوشحال مستقبل کی طرف ایک چھلانگ ہے کیونکہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے پیدائش میں وقفہ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں نوبیاہتا جوڑوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آبادی کے اس عالمی دن کے موقع پر ہمیں خواتین کو سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کا عہد بھی کرنا ہے۔ ایک بااختیار عورت آبادی میں تیزی سے اضافہ وغیرہ جیسے چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد کر سکتی ہے۔ باپ، بھائی اور شوہر، خاندان کے مرد ارکان ہونے کے ناطے، ہمیں اپنی خواتین خاندان کے ارکان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔ پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب ہم سب اپنے معاشرے میں چھوٹے اور متوازن خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں تمام اسٹیک ہولڈرز، سرکاری محکموں اور ترقیاتی شراکت داروں کی مشاورت سے پنجاب پاپولیشن پالیسی تیار کی گئی۔ جس کا مقصد وسائل کی منصفانہ تقسیم، پائیدار ترقی اور صوبے بھر کے عوام کو صحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات کی فراہمی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب آبادی میں اضافے کو روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ صوبہ بھر میں قائم خاندانی بہبود کے مراکز پنجاب کے کونے کونے میں محفوظ، محفوظ اور قابل اعتماد خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات مفت فراہم کر رہے ہیں۔ ہمارے تربیت یافتہ مرد اور خواتین متحرک افراد گھر گھر جا کر خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں بیداری پیدا کر رہے ہیں۔ موبائل ہیلتھ یونٹس پنجاب کے دور دراز علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ PWD نے خاندانی منصوبہ بندی سے جڑے منفی بدنما داغوں کو دور کرنے اور بیداری بڑھانے کے لیے علمائے کرام اور ماہرین تعلیم کے ساتھ شراکت کی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی غیر پوری ضروریات کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے PWD ہدف بنائے گئے علاقوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے اور وہاں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ PWD کو بااختیار بنانے کے لیے مانع حمل لاجسٹک مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیا گیا ہے اس کے علاوہ نچلی سطح سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے PITB کا تعاون حاصل کیا گیا۔ ان تمام کوششوں کے لیے شہریوں کے تعاون کی ضرورت ہے تاکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع انداز اپنایا جا سکے۔ آبادی کی روک تھام کے سلسلہ میں ہم تمام پاکستانیوں کواس آگاہی مہم کے مشعل بردار بننے کا عزم اور اپنے خوشحال مستقبل کے حوالے سے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگرکرنا ہو گا۔ ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئر سمن رائے نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں تقریباً ہر خاندان میں مرد فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی پیدائش، جگہ اور تعداد کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اس لیے پیغام پہنچانے کے لیے مرد اراکین کو بھی برابر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
”ایڈووکیسی کمپین لیڈنگ ٹو کال فار ایکشن” کے تحت مردانہ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات اس کی ضرورت اور اہمیت کے بارے محکمہ شادی شدہ جوڑوں کو موثر کونسلنگ فراہم کرتا ہے تاکہ بچے اور ماں کی صحت متاثر نہ ہو۔ محکمہ نے خواتین کے ساتھ مردوں کو بھی ا ٓگاہی کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا ہے جو گھر میں فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات، خاص طور پر مردانہ مشاورت اور مانع حمل ادویات، ہمارے مراکز پر مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ ڈی جی خان میں مردوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کی فراہمی کے لیے مزید دو میل سینٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل طریقوں سے متعلق متعدد سماجی ممنوعات جوڑوں کے درمیان خدمات حاصل کرنے میں شرم اور ہچکچاہٹ پیدا کرتے ہیں۔ محکمہ کی کوشش ہے کہ مردوں کو براہ راست یا بلاواسطہ خاندانی منصوبہ بندی کے دائرے میں لایا جائے۔ جب تک مرد خاندانی منصوبہ بندی کی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوں گے کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔بہترین حکمت عملی سے کوشش ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے مردوں کو بھی ذمہ دار بنایا جائے جنہوں نے اسے خواتین کی واحد ذمہ داری کے طور پر لیا ہے۔ اس سلسلے میں شادی شدہ جوڑوں کے نفسیاتی مسائل کو بھی حل کیا جائے ا ور مثبت پہلوؤں کو اجاگرکر کے جوڑوں کی مشاورت کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔
پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے اے ڈی پی سکیم کے تحت کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن کے ماہرین کے ساتھ کمیٹی روم ڈی جی پاپولیشن آفس لاہور میں ایڈووکیسی کمپین لیڈنگ ٹو کال فار ایکشن کا انعقاد ہوا جس میں انٹرایکٹو سیشن کے انعقاد کا بنیادی مقصد علم کا تبادلہ ہوا۔ معاشرے کے تمام طبقات کی اجتماعی کوششوں کے لیے صحافی برادری کے ساتھ آبادی میں اضافے اور فلاح و بہبود سے متعلق تجربے اور چیلنجز بارے آگاہی دینے بارے حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔پاپولیشن ویلفیئر آفس لاہور کے افسران، صحافیوں، کالم نگاروں اور میڈیا پروفیشنلز کی بڑی تعداد کو محکمہ کے اہداف، صوبے کی آبادی کی صورتحال، اہداف، منصوبوں، میڈیا مہم کے بارے میں گاہے بگاہ جامع بریفنگ دیتے ہیں۔ محکمہ آبادی میں اضافے اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کو میڈیا کے ذریعے اجاگر کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ محکمہ کی کوششوں سے پنجاب میں آبادی میں اضافے کی شرح دن بدن کم ہو رہی ہے۔ محکمہ کی جانب سے والدین کی مشاورت جلد شروع کی جا رہی ہے۔ ادارے کے علاقائی تربیتی اداروں کے ذریعے لڑکوں اور لڑکیوں کو تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جو محکمہ بہبود آبادی سمیت دیگر اداروں میں اپنی خدمات فراہم کررہے ہیں۔ ہم رویے کی تبدیلی پر کام کر رہے ہیں جو ایک مشکل کام ہے۔ مقامی صحافیوں، کالم نگاروں اور میڈیا کے پیشہ ور افراد کی شرکت سے محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات کو سماجی اور طرز عمل میں تبدیلی کے لیے بنیادی سطح پر پھیلایا جا سکتا ہے۔ حکومت خاندانی منصوبہ بندی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ دیہی اور شہری پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ فیملی ہیلتھ کلینک اور فلاحی مراکز کو مزید فعال بنایا جائے گا اور تحصیل اور ضلعی سطح پر اقدامات کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے گی۔ صوبائی حکومت نے خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات اپنانے والے خاندانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت خصوصی پیکیج دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کرہ ارض پر انسانی بقا کے لیے خطرہ ہے کیونکہ آبادی میں بے تحاشہ اضافہ صحت، تعلیم، ماحولیاتی اور روزگار کے مسائل کو بڑھاتا ہے۔ آبادی سے متعلق مسائل پر قابو پانے کے لیے حکومتی کوششوں کے ساتھ عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ آبادی کو کنٹرول کر کے معیار زندگی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ سب کو آبادی کی منصوبہ بندی کے بارے میں سماجی بیداری بڑھانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر قیادت پنجاب حکومت آبادی کی بہبود کے لیے مثالی اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے آبادی کی بہبود کے پروگراموں کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
بہبود آبادی کا عالمی دن 11 جولائی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے جس میں پاکستان بالخصوص صوبہ پنجاب میں محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے”سیف گارڈننگ دا رائٹس آف ہیلتھ آف ویمن اینڈ گرلز“ کے عنوان کے تحت ضلعی اور تحصیل کی سطح پر مختلف تقاریب اور سیمینارز کا اہتمام کیاجاتا ہے۔ اسی سلسلہ میں ہر سال محکمہ بہبود آبادی پنجاب کی جانب سے ”ورلڈ پاپولیشن ڈے“کے موقع پر ایک انتہائی اہم اور معلوماتی تقریب کا اہتمام کیا جاتاہے۔اس دن کو منانے کا باضابطہ آغاز 1989 سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے UNDP(United Nations Development Program) کی جانب سے کیا گیا اور 11 جولائی 1990 کو پہلا”عالمی یوم آبادی“منایا گیا جبکہ گزشتہ سال11 جولائی 2023 ء کو آبادی کا 33واں عالمی دن منایا گیا جس کا اہم موضوع خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے لڑکیوں اور عورتوں کے حقوق، صنفی مساوات، زچگی کے دوران عورت کی صحت اور انسانی حقوق کی اہمیت کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنا تھا۔ایک جائزے کے مطابق اس وقت عالمی آبادی 8 ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی کا 50 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ دنیا میں ہر گھنٹے 9000 سے زائد بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس تناسب سے دنیا کی آبادی میں سالانہ 8 کروڑ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ تیزی سے بڑھتی آبادی پاکستان کا سنگین مسئلہ ہے جس کے حل کے لئے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کے دیر پا نتائج حاصل ہوں۔ جب تک آبادی کنٹرول نہیں ہو گی ملکی معیشیت کو بہتر کرنا ناممکن ہے۔ اسی طرح معیشت ٹھیک ہو گی تو لوگ تعلیم یافتہ ہوں گے اور آبادی خود بخود کنٹرول ہو گی۔ فیملی پلاننگ سے متعلق آگہی پیدا کرنے کے لئے علماء کرام کا کردار ناگزیر ہے۔ محکمہ ہیلتھ کے تعاون سے ہسپتالوں میں جہاں جہاں گنجائش ہے وہاں فیملی پلاننگ سنٹر قائم کئے جارہے ہیں۔ ملک میں اس وقت غربت کی شرح 50 فیصد کو چھو رہی ہے گر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو ملک میں جنم لیتے بے شمار دیگر مسائل کو حل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ خوشحال معاشرے کے قیام کے لئے وسائل اور آبادی میں توازن لازم و ملزوم ہے۔ خوشحال معاشرے کے قیام، وسائل اور آبادی میں توازن، پائیدار سماجی ترقی، خاندانی منصوبہ بندی کی بہتر سہولیات، اور تولیدی صحت کی بہتری خدمات کے لئے محکمہ بہبود آبادی حکومت پنجاب اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک جامع منصوبہ پر عمل پیرا ہے۔
محکمہ بہبود آبادی پنجاب کا پیش کردہ”متوازن خاندان“کا نظریہ دراصل ایک نہایت ہی خوبصورت عکس ہے خوشحال خاندان اور خوشحال معاشرے کے قیام جس کا اصل مقصد ہے کہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے جائیں اور اپنے وسائل کے مطابق بچے پیدا کئے جائیں تاکہ ماں اور بچے دونوں کی صحت اچھی رہے اور خاندان یا کنبہ خوشحالی کے ساتھ پروان چڑھ سکے۔ خوشحال معاشرے کے اس خواب کو حقیقت کی تعبیر دینے اور عوام کی سہولت کے لیے محکمہ بہبود آبادی 2100 فیملی ویلفیئر سینٹرز، 129 فیملی ہیلتھ کلینکس، 7 مین ایڈوائزری سنٹرز، دہی مرکز صحت اور بنیادی مراکز صحت کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے دن رات کوشاں ہے۔ اس کے علاوہ 1332 سوشل موبلائزر، 900 کمیونٹی بیسڈ فیملی پلاننگ ورکرز، اور 117 فیملی ہیلتھ موبائل یونٹس کی مدد سے وسائل اور آبادی میں توازن، زچہ و بچہ کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی کی محفوظ اور موثر سہولیات، پیدائش میں مناسب وقفہ، متوازن غذا، ذہنی مسائل اور تولیدی صحت کا پیغام اور خدمات ہر گھر کی دہلیز تک پہنچائی جا رہی ہیں۔
محکمہ بہبود آبادی کی جامع اور مؤثر پالیسیوں کے نتیجہ میں گزشتہ سالوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ صوبہ پنجاب کی مانع حمل کارکردگی کا تجزیہ کریں تو اس میں 79.6 فیصد ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور فیلڈ موٹیویٹرز کی بدولت 15 لاکھ سے زیادہ اہل شادی شدہ جوڑوں نے خود کو خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام میں رجسٹر کرایا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ کی جانب سے عوامی فلاح اور آگاہی کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ محکمہ کی جانب سے سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لئے بھرپور مہم چلائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل تک پیغام کی رسائی کے لئے کالجز، یونیورسٹیوں میں سیمینارز اور لاتعداد ڈسکشن فورمز کے انعقاد سے فیملی پلاننگ کے پیغام کے پھیلاؤ میں مدد ملی۔وقت کا تقاضا ہے کہ ایسے اختراعی آئیڈیاز حاصل کیے جا ئیں جو آبادی کی ترقی کے لیے تبدیلی کو متحرک کرسکیں۔PPIF کے مطابق، تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب کہ صوبے میں خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں تقریباً عالمگیر آگاہی موجود ہے، لیکن جدید طریقوں کی عدم رسائی اور ان کے استعمال سے منسلک مضر اثرات کے خوف اور ان کی رسائی نہ ہونے کے باعث صوبے میں ضرورت کی عدم تکمیل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔پی پی آئی ایف کا مقصد محض نئے منصوبوں کے آغاز نہیں بلکہ مستقبل کو مزید آگے دیکھنا اور غیر ذمہ دارانہ مارکیٹ اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کے حصول کی سست رفتار کے ممکنہ حل کی نشاندہی کرنا ہے اور کم وسائل کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کرنا ہے۔
Comments are closed.