شکارپور میں جمیعت علماء السلام کے رہنما اور حلقہ این اے 193 کے امیدوار علامہ راشد محمود سومرو کی جانب سے پریس کانفرنس۔

0

شکارپور رپورٹ

عدیل احمد دل

شکارپور میں جمیعت علماء السلام کے رہنما اور حلقہ این اے 193 کے امیدوار علامہ راشد محمود سومرو کی جانب سے پریس کانفرنس۔

تفصیلات کے مطابق:

جمعیت علماء اسلام سندھ کے جنرل سیکریٹری اور این اے 193 کے امیدوار علامہ راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ عوام کو آزاد چھوڑا جائے عوام اپنے حکمران منتخب کریں گے، اگر عوام کا مینڈیٹ چرایا جائے گا تو عوام کا اس سسٹم سے اعتماد اٹھ جائے گا، عوام کا اس پارلیمان سے اس ائین سے اعتماد اٹھ جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی نائب امیر مولانا سید سراج احمد شاھ امروٹی، ضلعی سیکرٹری جنرل مولانا عبداللہ مہر، این اے 192 کے امیدوار ڈاکٹر ابراہیم جتوئی اور پی ایس 7 کے امیدوار آغا تیمور خان پٹھان، پی ایس 9 کے امیدوار سید رشد اللہ شاہ امروٹی کے ساتھ پریس کلب کے نو منتخب عہدیداران صدر سوڈھو جیمس ، نائب صدر عارف قریشی ، جنرل سیکریٹری عبدالسلام انڑ ، جوائنٹ سیکریٹری ارشاد آرائیں ، خزانچی عبدالخالق سومرو اور ایگزیکیٹو ممبران آغا اسرارِ پٹھان، رحیم بخش جمالی، زاہد نون، ایاز منگی، عبدالرشید جامڑو، عبدالحکیم جتوئی کو مبارکباد دینے کہ بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، علامہ راشد محمود سومرو کا مزید کہنا تھا کہ خدانخواستہ اگر عوام نے اس آئین سے بغاوت کر دی ،سسٹم سے بغاوت کر دی اس پارلیمانی نظام سے بغاوت کر دی تو ملک کا اللہ ہی حافظ ہے، کہتے ہیں ہم لاہور کو بھی لاڑکانہ جیسا بنائیں گے ہم لاہور کو بھی کراچی جیسا بنائیں گے، میں کہتا ہوں لاہور تو چھوڑو صرف بہاولپور کا دورہ کرلو رحیم یار خان کو دیکھ لیں، 15 سال اقتدار میں سندھ کو تباہ اور برباد کردیا گیا، ہم اقتدار میں آکر 100 فیصد کرہشن کا خاتمہ کرینگے ، میرے اوپر لگنے والے کرپشن کےالزامات ثابت کریں، اگر کرپشن کی ہے تو نیب اور اینٹی کرپشن کہاں ہے، اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے مجھے پارلیمنٹ میں بھیجیں گے یا میرے مخالفین کو بھیجیں گے، اگر عوام ہمیں مسترد کرتے ہیں اور ان کو پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں تو پھر ہم جمہوری لوگ ہیں، الیکشن میں مقابلہ پیسے سے اور الیکشن میں پیسہ پانی کی طرح بہایا جارہا ہے، پیسے کا سہارا لے کر اگر عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا تو عوام کا اس سسٹم سے اعتماد اٹھ جائے، جے یو آئی امیدوار الیکشن مخالفین کو ہرائینگے ، ماضی کے حکمرانوں نے سندھ کو تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا ہے، الیکشن کمیشن کے پابندی کے باوجود یہاں پر گلیاں بن رہی ہیں اور روڈ بن رہے ہیں ٹرانسفارمر تبدیل ہورہے ہیں ، ترقیاتی کام عروج پر ہیں، الیکشن کمیشن کی پابندی لگانے کا کیا فائدہ ہے، بلدیاتی اداروں کو ایک مخصوص جماعت کے حق میں استعمال کیا جا رہا ہے ، فنڈز بے نظیر انکم سپورٹ یا گھروں کے نام پر لوگوں کو رقم تقسیم کی جارہی ہی، 50 گاؤں کی پولنگ ایک گاؤں میں رکھی گئی ہے اور وہ گاؤں کسی ایک سردار کے زیر اثر ہے، باقی قبیلے والے وہاں نہیں جا سکتے، قبائل کی لڑائیاں ہیں تکرار ہیں تنازع ہیں تو ایسے جگہوں کی ہم نے لسٹ تیار کر کے الیکشن کمیشن کو بیچ چکے ہیں۔اس موقع پر قاری مجیب الرحمن مدنی، حافظ رفيق احمد شر، مولانا محمد طيب ميکہو، اللہ ڈنو سومرو اور دیگر رہنما بھی موجود تھے،

Daily Askar

Comments are closed.