مضبوط، منتخب اور مالی طور پر خودمختار مقامی حکومتیں جمہوریت کو عملی اور موثر بنانے کیلئے ناگزیر ہیں، قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی کا ڈیولوشن سمٹ 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب

4

 اسلام آباد۔14جنوری   :قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے مضبوط، منتخب اور مالی طور پر خودمختار مقامی حکومتوں کو جمہوریت کو عملی اور موثر بنانے کےلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیولوشن قومی یکجہتی کےلئے خطرہ نہیں بلکہ اس کی مضبوط ضمانت ہے کیونکہ اس سے عوامی شرکت میں اضافہ، شکایات کا بروقت ازالہ اور جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں ڈیولوشن سمٹ 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ انہیں سمٹ سے خطاب کا موقع ملنے پر مسرت ہے۔ انہوں نے اس فورم کو ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا جہاں پارلیمنٹ کے ارکان، آئینی ماہرین، سرکاری منتظمین، ماہرین معیشت اور سول سوسائٹی کے نمائندے اس امر پر سنجیدہ اور منظم غور و فکر کےلئے جمع ہوئے کہ پاکستان میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو کس طرح پائیدار، موثر اور عوام کی ضروریات کے مطابق بنایا جاسکتا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سول سروس کے ڈھانچے، مراعات اور ترقی کے نظام کو ڈیولوشن کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے سپیکر اور پنجاب لوکل گورنمنٹ کاکس کو اس بروقت اور بامقصد سمٹ کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ڈھانچے، مالیاتی وفاقیت اور انتظامی اصلاحات کو بحث کا محور بنا کر منتظمین نے یہ یقینی بنایا کہ ڈیولوشن کو محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسا آئینی نظام سمجھا جائے جسے قانون، وسائل اور مضبوط اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ بطور چیئرمین سینیٹ وہ اس موضوع کو گہرے آئینی فرض کے احساس کے ساتھ دیکھتے ہیں کیونکہ سینیٹ صوبائی حقوق کے تحفظ، وفاقی توازن کے قیام اور قومی فیصلہ سازی میں وفاقی اکائیوں کی آواز کو یقینی بنانے کا ادارہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیولوشن پر کوئی بھی بامعنی گفتگو آئین میں درج کوآپریٹو فیڈرلزم کے جذبے کے تحت ہونی چاہیے۔ انہوں نے اپنے وزارت عظمیٰ کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی منتقلی میرے سیاسی سفر کا مرکزی حصہ رہا ہے، خصوصاً اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے جوغیر معمولی سیاسی اتفاق رائے سے منظور ہوئی، اس نے پارلیمانی بالادستی بحال کی، صوبائی خودمختاری کو مضبوط کیا اور غیر مرکزیت کے اصول کو آئینی طور پر مستحکم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے مشترکہ قانون سازی کی فہرست کو ختم کردیا گیا اور تعلیم، صحت، زراعت، محنت اور سماجی بہبود جیسے اہم شعبے وفاق سے صوبوں کو منتقل کر دیئے گئے، اس آئینی مینڈیٹ کو عملی شکل دینے کےلئے میری حکومت نے17 وفاقی وزارتوں کی مرحلہ وار منتقلی کی نگرانی کی اور یکم جولائی 2011ء کو یوم صوبائی خودمختاری قرار دیا جو مرکزی کنٹرول سے ہٹ کر آئینی اختیار کے تحت مشترکہ طرز حکمرانی کی جانب ایک فیصلہ کن تبدیلی کی علامت تھا۔ قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد آئین نے خود اس تاریخی منتقلی کے عمل کو منظم اور موثر طریقے سے انجام دینے کےلئے ایک باقاعدہ اور منظم طریقہ کار فراہم کیا، آرٹیکل 270AA کے تحت ایک امپلیمنٹیشن کمیشن قائم کیا گیا جسے وفاق سے صوبوں کو اختیارات، اداروں اور فرائض کی منتقلی کی نگرانی، ہم آہنگی اور رہنمائی کی ذمہ داری سونپی گئی، اس کمیشن نے آئینی تبدیلی کے اس نہایت اہم دور میں قانونی وضاحت کو یقینی بنانے، بین الحکومتی مسائل کے حل اور نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے کام نے ایک بنیادی حقیقت کو مزید مضبوط کیا جو آج بھی پوری طرح قابل اطلاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیولوشن کوئی ایک وقتی قانون سازی کا عمل نہیں بلکہ ایک محتاط اور منظم آئینی عمل ہے جس کےلئے پائیدار سیاسی ملکیت، انتظامی آمادگی اور وفاق و صوبوں کے درمیان موثر تعاون ناگزیر ہوتا ہے۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ مالی وسائل کے بغیر آئینی اختیارات نامکمل ہوتے ہیں اور اسی لئے ساتواں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ اٹھارویں ترمیم کا لازمی تکمیلی جز تھا۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی عمودی اور افقی سطحوں پر تقسیم نو کے ذریعے اس ایوارڈ نے وفاقی محاصل میں صوبوں کے حصے کو بڑھایا اور ایک زیادہ منصفانہ فارمولہ متعارف کرایا، ذمہ داریوں اور وسائل کے درمیان یہ ہم آہنگی موثر وفاقیت کی بنیاد ہے اور آج بھی بین الحکومتی مالی تعلقات پر ہونے والی بحثوں کی سمت متعین کرتی ہے۔ انہوں نے سمٹ کی بحثوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ڈیولوشن اکثر اوقات پائیدار ہونے کے بجائے وقتی نوعیت کا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیشن اول میں آئینی ڈھانچے پر زور اس بات کو واضح کرتا ہے کہ تسلسل، آئینی وفاداری اور ادارہ جاتی حدود کا احترام ناگزیر ہے،انہوں نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ پارلیمنٹ کے جاری نگرانی کے کردار کو تسلیم کیا گیا، اس سلسلہ میں سینیٹ نے کمیٹی برائے ڈیولوشن قائم کی تاکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد کے فریم ورک پر مسلسل پارلیمانی جائزہ لیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ ڈیولوشن کے نفاذ کا جائزہ لے، ادارہ جاتی یا قانونی رکاوٹوں کی نشاندہی کرے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر آئینی توازن کو قائم رکھے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اس کمیٹی کا وجود سینیٹ کی اس منفرد ذمہ داری کی عکاس ہے کہ وہ صوبائی مفادات کا تحفظ کرے اور یہ یقینی بنائے کہ وفاقی معاہدہ آئینی مقاصد کے مطابق ترقی کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سول سروس اصلاحات پر ہونے والی بحثوں نے آئینی ڈھانچے اور انتظامی عمل کے درمیان ایک اہم تضاد کو اجاگر کیا ہے۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ تین سطحی آئینی نظام مرکزی ریاست کےلئے ڈیزائن کی گئی بیوروکریسی کے ساتھ موثر طریقے سے کام نہیں کرسکتا، انتظامی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ضروری ہے مگر یہ غیر مرکزیت پر مبنی فیصلہ سازی، مقامی سطح پر جوابدہی اور خدمت پر مرکوز حکمرانی کے ساتھ ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ ایک ادارہ جاتی ضرورت بن چکی ہے کہ سول سروس کے ڈھانچے، مراعات اور کیریئر کے راستے ڈیولوشن کے تقاضوں کے مطابق ڈھالے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتیں شہریوں کی روزمرہ زندگی میں ریاست کا سب سے فوری اور واضح اظہار ہیں، جب یہ موثر طریقے سے کام کرتی ہیں تو جمہوریت حقیقی اور محسوس شدہ بن جاتی ہے، خدمات میں بہتری آتی ہے، شکایات کا بروقت ازالہ ہوتا ہے اور کمیونٹیز میں نمائندگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ جب یہ کمزور یا غیر فعال ہوں تو حکمرانی دور اور غیر جوابی محسوس ہوتی ہے لہٰذا مقامی حکومتوں کے اداروں کو مضبوط بنانا، باقاعدہ انتخابات کو یقینی بنانا اور ان کے اختیارات و مالیات کو واضح طور پر متعین کرنا، ڈیولوشن کے آئینی وعدے کو پورا کرنے کےلئے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ڈیولوشن سمٹ چارٹر جو آپ کی اجتماعی غور و فکر سے ابھرا ہے، ان چیلنجز کو حل کرنے کےلئے ایک سوچا سمجھا اور عملی رہنما دستاویز فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس چارٹر نے بحث و مباحثے کو آئینی، مالیاتی اور انتظامی اصولوں میں تبدیل کرکے مستقل اصلاحات کی بنیاد رکھی ہے، اس کی اصل اہمیت صرف آج کی توثیق میں نہیں بلکہ اس کی مسلسل وکالت اور قانون سازی و انتظامی اقدامات کے ذریعے عمل درآمد میں مضمر ہوگی۔ قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بطور چیئرمین سینیٹ میں تعاون پر مبنی وفاقیت، صوبائی مساوات اور موثر ڈیولوشن کے فروغ کےلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ وفاقی اکائیوں کے درمیان مکالمے کا فورم، آئینی توازن کا محافظ، اور اصلاحات کےلئے ایک محرک کے طور پر کام جاری رکھے گا جو حکمرانی کو عوام کے قریب لائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیولوشن قومی یکجہتی کے لیے خطرہ نہیں بلکہ اس کی مضبوط ضمانت ہے کیونکہ اس سے عوامی شرکت بڑھتی ہے، شکایات کا بروقت ازالہ ہوتا ہے اور جمہوری اداروں پر اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ پارلیمانی سیاست اور جمہوری جدوجہد کے طویل تجربے سے میں نے یہ سیکھا ہے کہ دیرپا اصلاحات اتفاق رائے، صبر اور ادارہ جاتی احترام کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں، ڈیولوشن ایک مسلسل عمل ہے جو بیداری، سیاسی پختگی اور آئین کےلئے غیر متزلزل عزم کا متقاضی ہے۔ انہوں نے تقریب کے منتظمین اور شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد ڈیولوشن چارٹر ایک زندہ دستاویز کے طور پر پالیسی سازی اور قانون سازی کی رہنمائی کرتا رہے گا اور ہمیں یاد دلاتا رہے کہ حکمرانی کی حقیقی پیمائش ہمارے شہریوں کی روزمرہ زندگی کے تجربات میں مضمر ہے۔

Web Desk

Comments are closed.