نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و شال گروپ آف پبلیکیشنز کے بانی و سمالزائی ٹرسٹ کے چیئرمین الحاج پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم صادق سمالزائی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبائی محکمہ تعلقات عامہ کا اشتہارات کی پالیسی سے روگردانی غیر قانونی عمل ہے جس کا مواخذہ کیا جانا ضروری ہے ۔ محکمہ تعلقات عامہ میں پوری طرح انار کی پھیل چکی ہے اور حالت یہ ہے کہ ڈائریکٹر جنرل تمام محکمانہ امور سے لا تعلق ہو کر بیٹھا ہوا ہے جبکہ انچارج شعبہ اشتہارات پالیسی ایک طرف رکھ کر اپنی من مانیاں کر رہا ہے اور اسے کوئی روکنے یا پوچھنے والا نہیں ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ پرنٹ میڈیا سے وابستہ اخبارات و جرائد بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور ان کی شکایات سننے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ ڈائریکٹر جنرل سے اگر بات کی جائے تو وہ اپنی بے بسی کا اظہار کر دیتا ہے اسی طرح شعبہ اشتہارات کا انچارج کسی کی بات سننے پر امادہ نہیں ہوتا اس نے شعبہ اشتہارات میں اپنے سوا تمام افسران کو بالکل فارغ کر رکھا ہے اور خود سیاہ و سفید کا مالک بن کر بیٹھا ہوا ہے وہ نہ ہی ڈائریکٹر جنرل اور نہ ہی ماتحت افسران کو خاطر میں لاتا ہے اس کو نہ تو کسی کی معاونت درکار ہے نہ ہی مشاورت۔ دوسری جانب نگران وزیر اطلاعات سے اگر شکایت کی جاتی ہے تو ان کا سیدھا سا جواب ہوتا ہے کہ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل کے پاس تمام معاملات کا اختیار ہے اور وہ محکمہ میں کوئی مداخلت نہیں کرنا چاہتے ۔ بانی شال گروپ آف پبلیکیشنز ڈاکٹر عبدالحلیم صادق نے مزید کہا کہ یہ تمام صورتحال دانستہ طور پر پیدا کی گئی ہے تاکہ مقامی اور ریجنل اخبارات کا گلا گھونٹا جا سکے اور بلوچستان سے اس واحد صنعت کا صفایہ کیا جا سکے ۔ انہوں نے پرنٹ میڈیا سے وابستہ تمام تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ جلد از جلد مستقبل کا لائحہ عمل تشکیل دے کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں پچھتانا پڑے
Comments are closed.