نصیرآباد بلوچستان کی نہ صرف سرسبزڈویژن ھے بلکہ یہ ڈویژن آبادی کے لحاظ سے بھی اپنا الگ مقام رکھتی ہے ان کے علاوہ یہاں کے لوگ صرف کھیتی باڑی و مالداری سے وابسطہ نہیں ہیں بلکہ ایوان بالا میں بھی سرے فہرست میں شمار ھوتی اگر بات کی جائے کاروبار کی تو یہاں پر صوبے بھر کی دیگر ڈویژنز سے ذیادہ ملز و کارخانے موجودہیں جو بلوچستان کا دوسرا حب کہا جائے تو مناسب ہے اگر آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بنسبت دوسری ڈویژن کے گنجان آبادی والی ڈویژن شمار ھوگی یہاں پر کثرت میں شہری آبادی ھے جبکہ دوردرواز علاقوں میں پھیلی ہوئی آبادی بھی موجود ہے تمام لوگوں کیلئے بنیادی اقدامات کی فراہمی کو یقینی بنانااور زندگی کی تمام سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانا حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے بلوچستان سمیت نصیرآباد ڈویژن کی عوام کو بجلی،آبنوشی، تعلیم، صحت، پختہ تعمیراتی عمل کی سہولیات،نکاس آب، کاشتکاروں کو ذرعی پانی کی فراہمی اور ان کے وسیع تر مفادات میں اقدامات کرنے کیلئے بلوچستان میں قائم نگراں حکومت مصروف عمل ہے تاکہ لوگوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اس میں کوئی شک نہیں کہ اتنی بڑی آباد کو تمام سہولیات کی فراہمی کسی کڑے چیلنج سے کم نہیں ھے مگر عوام کی بہتری کیلئے حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے نصیرآباد ڈویژن میں اس وقت کروڑوں روپوں کے ترقیاتی منصوبے زیر تعمیر ہیں جو سابقہ حکمرانوں کے دورمیں شروع کئے گئے تھے نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے ان منصوبوں کو جاری رکھنے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرکے عوام کے وسیع ترمفادات میں اقدامات کئے جو اب بھی جاری ہیں حکومت کی جانب سے ان ترقیاتی منصوبوں کو فنڈز کی فراہمی کے بعد یونہی محکموں کے سپرد نہیں چھوڑا گیا بلکہ ان تمام منصوبوں کی جانچ پڑتال اور ان کے معیار کو چیک کرنے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان معائنہ کمیٹی کے ممبران اور ڈویژنل کمشنرز پر بھاری ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ کام کی جانچ پڑتال کیلئے تمام منصوبوں کا سرپرائز وزٹ کریں اور تمام ترتفصیلات صوبائی سطح پر نگراں وزیر اعلیٰ میر مردان خان ڈومکی اور چیف سیکرٹری بلوچستان قادر شکیل کے ساتھ شیئر کی جائے انہی احکامات کی روشنی میں کمشنر نصیرآباد ڈویژن طارق قمربلوچ نے نصیرآباد ڈویژن میں اب تک 12 ترقیاتی عمل کی جانچ پڑتال اور دیگر امور کے حوالے سے مختلف اضلاع کے دورے کرچکے ہیں گزشتہ دنوں کمشنر نصیرآباد نے ضلع استامحمد میں ترقیاتی عمل کے معیار کو پرکھنے اور عوام کو دیگر درپیش مسائل کا جائزہ لینے کیلئے دورہ کیا کمشنر آفس کے سپرنٹنڈنٹ نوراحمد ڈومکی بھی ان کے ہمراہ تھے ضلع استامحمد میں اس وقت کروڑوں روپوں کی ترقیاتی اسکیمات آن گوئنگ ہیں کئی اسکیمات نگراں حکومت کے اقتدارمیں مکمل کروائی گئی ہیں کیونکہ یہ اسکیمات تکمیل کے آخری مراحل میں تھیں اگر انہیں بروقت بقیہ فنڈز کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جاتا تو یقیناً یہ اسکیمات اپنی افادیت و اہمیت کھودیتی کمشنر نصیرآباد ڈویژن طارق قمر بلوچ نے بلیک ٹاپ روڈ سالار خان جمالی، بلیک ٹاپ روڈ غفار آباد تا حسن خان جمالی کا معائنہ کیا اس موقع پر ایگزیکٹ انجینئر روڈز عرفان علی نے انہیں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں شولڈرز پر کام تیزی سے جاری ہے دورے کے موقع پر کمشنر نے زیر تعمیر گرلز کالج اور سیول ہسپتال میں گائنی وارڈ جبکہ لیبر ہسپتال کے تعمیراتی کام کا بھی معائنہ کیا۔
(جاری ہے)
ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگ اکبر علی لاشاری نے تمام منصوبوں کے متعلق تفصیل سے آگاہی فراہم کی کمشنر نصیر آباد کو قبولہ ریگولیٹر کے مقام پر ایگزیکٹو انجینئر مہراللہ انصاری نے زیر تعمیر کینال کے گیٹس و دیگر امور اور پانی کی ترصیل کے متعلق تفصیل سے بریفنگ دی دورے کے موقع پر کمشنر نے ڈرینیج سسٹم کا بھی جائزہ لیاضلع استا محمد کے دورے کے موقع پر کمشنر نصیر آباد ڈویژن طارق قمر بلوچ نے ڈپٹی کمشنر استامحمد محمدحسین کے ہمراہ تحصیل ہسپتال کا دورہ کیا انہوں نے میل،فیمیل وارڈز،ڈینٹل یونٹ چائلڈ وارڈ،او پی ڈی سمیت دیگر یونٹس کا جائزہ لے کر عوام کو دی جانے والی طبی سہولیات کے متعلق آگاہی حاصل کی اس موقع پر میں خود بھی کمشنر نصیرآباد کے ہمراہ موجود تھا وہاں پر ڈینٹل یونٹ میں صفائی ستھرائی اور علاج معالجہ میں استعمال ہونے والے آلات کی عدم صفائی ڈاکٹرزاور عملے کی غیر سنجیدگی کی جانب سے اشارہ دے رہی تھی حالانکہ ہونا تو یہی چاہیے کہ وہ جس قدرحکومت عوام کے مفادمیں بہتر سے بہتر اقدامات کررہی ہے انہیں صحیح معنوں میں عوام تک پہنچایا جائے کمشنر طارق قمربلوچ نے خودبھی ڈاکٹرز اور عملے کی ناقص کارگردگی پر اظہار برہمی کیا اور ڈی ایچ او ڈاکٹرعبدالمنان لاکٹی کو اس جانب متوجہ کروایا کہ آلات کی صفائی ستھرائی پر خاص توجہ دی جائے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کا یہ عمل تو مزید بیماریوں کو بلاواہ دینے کے مترادف ہے جبکہ ڈینٹل یونٹ میں زائد المیعاد ادویات کا استعمال نہ کریں زائد المیعاد ادویات مزید بیماریوں کا پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں بعد ازاں کمشنر نصیرآباد ڈویژن طارق قمر بلوچ نے لیبر ہسپتال کا بھی دورہ کیا مختلف یونٹس کا جائزہ لیا لیبارٹری سمیت دیگر شعبوں میں کام کو تسلی بخش قرار دیاضروری نہیں ہے کہ سرکار کے سب کام اچھے ہی ہوں کہیں نہ کہیں تو ضرور کوتاہیاں اور اچھائیاں سامنے آئیں گی کمشنر طارق قمر بلوچ کی جانب سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ عوام کے بہترمفادات میں کسی قسم پر سمجھوتہ قبول نہیں کرتے البتہ صحیح معنوں میں عوام کے مفاد میں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے انہوں نے عملے اور آفیسران کو شاباش بھی دی کیونکہ ڈاکٹر مسیحا ہوتے ہیں اس لیے دکھی انسانیت کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑنا ڈاکٹرزاور پیرا میڈیکل اسٹاف کی اولین ذمہ داریوں کا حصہ ہے اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز پرلازم ہے کہ علاقائی سطح پر لوگوں کو جن امراض کی تشخیص کی جارہی ہے وہ انہیں امراض کے متعلق بالاآفسیران کو آگاہی فراہم کریں تاکہ ان امراض کے تدارک کیلئے انہیں ادویات کی خریداری کو یقینی بنایا جاسکے اس کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو ادویات کی فراہمی میں کوئی کمی نہ چھوڑی جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی واقع ہو استامحمد ہسپتال شہر کے وسط میں واقع ہے جس سے شہر کے علاوہ آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کا بھی انحصار تحصیل اورلیبرہسپتالوں پرھے ڈاکٹر و پیرامیڈیکل اسٹاف کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ لوگوں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی پر مرکوز کریں ضلع استامحمد کے ترقیاتی اور دیگر امور کی جانچ پڑتال کے بعد عوام کے مفاد میں کئے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کیلئے کمشنر نصیرآباد ڈویژن طارق قمربلوچ نے ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد حسین کے ہمراہ تمام ضلعی سربراہان کے اجلاس کی صدارت کی جس میں تمام ضلعی سربراہان نے اپنے اپنے محکموں میں جاری ترقیاتی،عوام کے مفادمیں کئے جانے والے اقدامات کے حوالے سے آگاہی فراہم کی اس جائزہ اجلا س میں ایس ایس پی سید جاوید شاہ غرشین ڈی ایچ او ڈاکٹر عبدالمنان لاکٹی ایگزیکٹو انجینئرز عرفان علی،
(جاری ہے)
اکبر علی لاشاری،مہر اللہ انصاری کمشنر آفس کے سپرنٹینڈنٹ نور احمد ڈومکی ایس ڈی او کریم بخش جویو نصیب اللہ کھوسہ سمیت دیگر ضلع آفیسران اور ان کے نمائندگان موجود تھے کمشنر نصیرآباد ڈویژن طارق قمر بلوچ نے افسران سے مخاطب ہو کہاکہ۔تمام آفیسران کو چاہیے کہ وہ عوام کے بہتر مفادات میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں انہوں نے یہ بھی کہا کہ عملے کو حاضری کا پابند بنائیں غیر حاضر ملازمین کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائیں تاکہ غیر حاضری کے عمل پر قابو پا لیا جا سکے سرکار نے جو ذمہ داریاں آپ کو دی ہیں ان پر ہر صورت عمل درامد کیا جائے عوام کے بنیادی اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز نہ برتیں حکومتی ثمرات سے عوام کو مستفید کرنے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر کام کو جاری رکھیں تمام ضلعی آفیسران اپنے محکمے کی کارگردگی ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کریں تاکہ تمام رپورٹ درست معنوں میں مرتب کر کے حکام بالا کو فراہم کی جا سکیں۔ یہ کہنا مناسب ھے کمشنر نصیرآبادڈویژن طارق قمر بلوچ کی کاوشیں قابل ستائش ہیں کیونکہ انہوں نے پورے دورے کے دوران جو احکامات آفیسران کو دیئے ان کے دوررس نتائج بلضروربرآمد ہونگے اس لئے کہتے ہیں کہ پائیدار ترقی کا خواب درست اور صحیح معنوں میں مکمل ہونے والے تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا حکومت کی جانب سے عوام کی تکالیف کو مدنظر رکھ کر نصیرآباد ڈویژن میں کئی منصوبے زیر تعمیر ہیں ان کی تکمیل کے بعد لوگوں کی مشکلات میں واضح طور پر کمی واقع ہوگی تمام ایگزیکٹو انجینئرز پر بھاری ذمہ داری عائد ہے کہ وہ اپنے اپنے محکموں میں جاری ترقیاتی پروجیکٹس کی تکمیل اور انہیں معیار کے مطابق مکمل کروانے کے لیے کڑی نگرانی کریں کیونکہ غیرمعیاری کام یاوہ ترقیاتی عمل جس گورنمنٹ کنٹریکٹرزکے ساتھ مبینہ طو پر ملی بھگت کی گئی ہوگی وہ ترقیاتی عمل ریت کی دیوار کی مانند ثابت ہوتے ہیں اس سے عوام کے ٹیکسز سے تعمیر ہونے والے پروجیکٹس کبھی بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتے اس لئے لازم ہے کہ ایگزیکٹوانجینئرز محکمے کی کارگردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہ کریں اور ان کے محکمے کی کارگردگی عوام کے سامنے شفاف شیشے کی مانند ہو اور عوام کا ان کے محکموں پر اعتماد بحال ہوتب جاکر ہم درست سمت کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں معیاری کام علاقے کی عوام اور محکموں کی کارگردگی کو مزید بہتر موجب بن سکتے ہیں ضلعی انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ وہ سختی کے ساتھ زیر تعمیر منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے گاہ بگاہے دورے کر کے تمام تر تفصیلات کا جائزہ لیتے رہیں کیونکہ یہ تمام منصوبے عوام کے مفاد میں زیر تعمیر ہیں حکومت کی جانب سے ان منصوبوں کی تکمیل کیلئے خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے تاکہ ان منصوبوں سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں۔
Comments are closed.