سوشل میڈیا: رشتوں کی نئی زبان یا خاموشی کا نیا دور؟

8

تحریر: محمد زیب
آج کل جب میں کسی خاندانی تقریب میں جاتا ہوں تو ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ دسترخوان پر بیٹھے لوگ کھانے سے زیادہ اپنی موبائل سکرین میں مصروف ہیں۔ بچے، بڑے، جوان، بوڑھے – سب کے ہاتھ میں ایک چمکتی ہوئی سکرین ہے جو ان کی آنکھوں میں نیلی روشنی بکھیر رہی ہے۔
یہ کوئی شکایت نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جس سے ہم سب واقف ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے اپنے عزیزوں سے منٹوں میں رابطہ کر سکتے ہیں۔ خبریں، معلومات، تفریح – سب کچھ ہماری انگلیوں کے اشارے پر موجود ہے۔
لیکن کیا اس سہولت کی کوئی قیمت بھی ہے؟
میں نے حال ہی میں ایک دوست سے ملاقات کی۔ ہم سالوں بعد ملے تھے۔ لیکن ہر دس منٹ بعد اس کا فون بجتا، واٹس ایپ کی نوٹیفکیشن آتی، اور ہماری بات چیت میں خلل پڑتا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ میرے ساتھ تھا، لیکن حقیقت میں نہیں تھا۔ اس کا ذہن کہیں اور تھا – شاید کسی فیس بک پوسٹ پر، کسی ٹویٹ کے جواب میں، یا انسٹاگرام کی سٹوری دیکھنے میں۔
ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ نوجوان نسل کے لیے تو یہ زندگی کا لازمی حصہ بن گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کچھ سنگین مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے اصل رشتوں سے دور ہو رہے ہیں۔ ہم سیکڑوں آن لائن دوست بنا رہے ہیں، لیکن اپنے گھر میں بیٹھے والدین سے بات کرنے کا وقت نہیں نکال پاتے۔ ہم دنیا بھر کی خبروں پر تبصرہ کر رہے ہیں، لیکن اپنے بہن بھائیوں کے دکھ درد سے بے خبر ہیں۔
گزشتہ ہفتے میری والدہ نے کہا: “بیٹا، تم گھر میں ہو لیکن تمہارا ذہن کہیں اور ہے۔” یہ الفاظ میرے دل میں چبھ گئے کیونکہ یہ سچ تھا۔ میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا، لیکن میری آنکھیں سکرین پر تھیں۔
دوسرا مسئلہ ذہنی صحت سے متعلق ہے۔ سوشل میڈیا پر دیکھی جانے والی “کامل” زندگیاں ہمارے اندر احساس کمتری پیدا کرتی ہیں۔ ہر کوئی خوش نظر آتا ہے، کامیاب دکھائی دیتا ہے، اور ہم اپنی حقیقی زندگی کو ان مصنوعی تصاویر سے موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی زندگی کا صرف وہی حصہ دکھاتے ہیں جو چمکدار ہے، باقی تاریکی چھپا کر۔
تیسرا مسئلہ وقت کا ضیاع ہے۔ ہم گھنٹوں سکرول کرتے رہتے ہیں، بغیر کسی مقصد کے۔ وہ وقت جو ہم کسی کتاب پڑھنے میں، کوئی ہنر سیکھنے میں، یا اپنے خواب پورے کرنے میں لگا سکتے تھے، ہم اسے بے معنی ویڈیوز دیکھنے میں ضائع کر دیتے ہیں۔
لیکن میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سوشل میڈیا مکمل طور پر برا ہے۔ اس نے بہت سے فوائد بھی دیے ہیں۔ کاروبار آگے بڑھے ہیں، آوازیں بلند ہوئی ہیں، اور لوگوں کو اظہار کا موقع ملا ہے۔ دور دراز کے رشتہ دار جن سے سال میں ایک بار ملاقات ہوتی تھی، اب روزانہ ان کے حال احوال معلوم ہو جاتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے: کیا ہم سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟
میری رائے میں، ہمیں توازن کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کو اپنایں، لیکن اسے اپنی زندگی پر حاوی نہ ہونے دیں۔ آن لائن دوستیاں بنائیں، لیکن حقیقی رشتوں کو فراموش نہ کریں۔ معلومات حاصل کریں، لیکن اپنی سوچ کو محدود نہ کریں۔
شاید ہمیں کبھی کبھار فون بند کر کے، سکرین سے نظریں ہٹا کر، اپنے ارد گرد موجود حقیقی لوگوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان سے بات کریں، ان کی آنکھوں میں دیکھیں، ان کی ہنسی سنیں۔
کل میں نے ایک تجربہ کیا۔ پورا دن فون بند رکھا۔ اپنے والدین کے ساتھ بیٹھا، بات کی، ان کی کہانیاں سنیں۔ اور مجھے احساس ہوا کہ یہ خوشی، یہ سکون، کسی بھی لائک، کسی بھی کمنٹ، کسی بھی وائرل پوسٹ سے کہیں زیادہ قیمتی تھا۔
کیونکہ زندگی سکرین کے اندر نہیں، اس کے باہر ہے۔
اور یہ حقیقی زندگی ہی وہ چیز ہے جو ہمیں اصل خوشی، اصل تعلقات، اور اصل معنی دے سکتی ہے۔
تو آج ہی ایک قدم اٹھائیں۔ ایک گھنٹہ، صرف ایک گھنٹہ، فون بند کر کے اپنے پیاروں کے ساتھ گزاریں۔
شاید آپ کو وہ خوشی مل جائے جو آپ سکرین پر تلاش کر رہے تھے۔

Web Desk

Comments are closed.