ایران کی جانب سے فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر ایک گھناونا وار ہے۔ جس کے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس خلاف ورزی کے نتیجے میں دو معصوم بچے جانبحق جبکہ تین بچیاں زخمی ہوگئی ہیں۔ جو ایران کے اس دعوی کی تردید ہے کہ یہ حملے کسی دہشت گرد تنظیم کے خلاف کیا گیا ہے۔ اس حملے کی ساری ذمہ داری ایرانی حکومت ، آئی آر جی سی اور ایرانی انٹیلیجنس پر عائد ہوتی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے متعدد چینلز ہونے کے باجود بین الاقوامی قوانین کے برعکس کارروائی عمل میں لائی گئی جو کہ صریحاً پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہے ۔
اس واقعے کا جواز پیدا کرنے کے لیے جیش العدل نامی تنظیم سے ایک جعلی پریس ریلیز بھی جاری کروائی گئی ۔ پاکستان کا ری ایکشن دیکھ کر ایران کو اپنے اِس غلط اور بے تکی حرکت کا اندازہ ہو گیا۔ جیش العدل جسے آئی آر جی سی خود چلا رہی ہے اور اب وہ چاہتے ہیں کے کسی طرح اِس مسئلے سے جان چھڑائی جائے اِسی لئیے جیش العدل سے دوبارہ جھوٹا بیان دلوایا گیا کے یہ راکٹس غلطی سے بارڈر کراس کر پاکستان چلے گئے جبکہ اصل میں نشانہ سستان، ایران کے اندر ہی واقع جیش العدل کے اپنے کیمپ تھے۔ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کے ایک دہشت گرد تنظیم خُود آئی آر جی سی کی طرف سے فائر کئے جانے والے راکٹس غلطی سے بارڈر کراس کرنے کی وضاحتیں دے رہی ہے۔ اِس سے صاف پتہ چلتا ہے کے یہ جیش العدل سے منسوب اکاؤنٹس آئی آر جی سی اور ایرانی انٹیلیجنس خود چلا رہی ہے۔
ایران کی اس کارروائی پر پاکستان میں شدید غم وعضہ پایا جاتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے کیمپس ایران میں موجود ہیں- کلبوشن یادیو بھی ایران سے آپریٹ کرتا رہا ہے۔ ایران کا یہ خیال کے پاکستان اِس واقع کو کسی بھی صورت نظر انداز کرے گا اُسکی بہت بڑی بھول ہے۔ اس کارووائی کے نتیجے میں پوری پاکستان قوم اس وقت ریاست سے ایک شدید اور اسی طرز کا ردعمل کرنے کے متقاضی ہیں۔ پاکستان ہر طرح کا ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے دفتر خارجہ کی طرف سے اریرانی ناظم الامور کی طلبی اور شدید احتجاج ریکارڈ کروایا جا چکا ہے۔
اس سے پہلے کی دراندازی اور دہشت گردی کے واقعات ایران کی سرزمین پر رونما ہو رہے ہیں جنوری 2023 میں ضلع پنجگور میں ایرانی سرحد کے باہر ایران کی جانب دہشت گردانہ سرگرمی کے دوران چار سیکورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے اور جبکہ اپریل 2023 میں ایران کی طرف سے دہشت گردوں نے کیچ میں پاکستان فورسز پر حملہ کیا۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایران کے سیکورٹی ادارے ایک پیج پر نہیں ہیں جس کی وجہ سے ایرانی حکومت کو سفارتی سطح پر سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
اس کارروائی کے دوران مخصوص سیاسی عناصر نے بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کا انتہائی گھناونا استعمال کیا اورافواج پاکستان کو بد نام کرنے کی مذموم رسعی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اس سوشل میڈیا مہم میں ہندوستان اکاونٹس نے بھی بھر پور حصہ لیا اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی میں پاکستان کی مخصوص سیاسی ٹولے کی معاونت کی۔
پاکستان قطعی طور پر عراق اور شام جیسا طرز عمل نہیں اپنائے گا اور اپنی قومی سلامتی اور سالمیت کے لیے ہر وہ قدم اٹھائے گا جو پاکستانی قوم کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرے گا۔ پاکستان ہمیشہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کو ترجیح دیتا ہے لیکن اپنی ملکی سلامتی کے تقاضوں سے قطعاً غافل نہیں ہے اور ایران کی اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
Comments are closed.