(کوئٹہ/پنجگور/ 17 جنوری):زائد المعیاد و مضر صحت اشیاء خوردونوش کی فروخت اور لائسنس کی عدم دستیابی پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی کوئٹہ شہر سمیت مختلف اضلاع میں تابڑ توڑ کارروائیاں جاری ہیں۔ اس ضمن میں بی ایف اے کی انسپیکشن ٹیموں نے کوئٹہ شہر میں 1 پکوان سینٹر سربمہر جبکہ 21 مراکز پر جرمانے عائد کردئیے۔ اسی طرح ضلع پنجگور میں بھی ایکسپائرڈ خوردنی مصنوعات رکھنے پر 4 مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے۔ کاروائیوں کے دوران زائد المعیاد اشیاء کی بڑی مقدار کو تلف و ضبط کیا گیا جن میں ایکسپائرڈ گھی، کولڈرنکس، پیکڈ لسی، پیکٹ مصالحے، میگی، چاکلیٹ، پنیر، فلیورڈ ملک، بچوں کے کھانے کی مختلف اشیاء اور پابندی عائد چائنیز نمک و گٹکاپان پراگ شامل تھیں۔ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی محمد نعیم بازئی کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ بی ایف اے کی انسپیکشن ٹیمیں کوئٹہ شہر سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں ناقص خوراک کی فراہمی خصوصاً زائد المعیاد اشیاء کی فروخت اور لائسنس کے بغیر خوردنی اشیاء کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہیں۔ اتھارٹی کی ہیڈ کوارٹر و ڈویژنل فوڈ سیفٹی ٹیموں کو ایکسپائرڈ مصنوعات کی سپلائی و فروخت روکنے کے لیے خصوصی طور پر متحرک کیا گیا ہے تاکہ نہ صرف کوئٹہ شہر بلکہ صوبہ بھر سے زائد معیاد خوردنی مصنوعات کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جاسکے۔ ڈی جی بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء کے معیار پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اس سلسلے میں بی ایف اے کی موبائل فوڈ سیفٹی ٹیمیں دودھ اور کوکنگ ائل کی ان دی سپاٹ ٹیسٹنگ کر رہی ہیں جبکہ مراکز سے مشکوک و ممکنہ طور پر غیر معیاری فوڈ آئٹمز کے سیمپلز لے کر تفصیلی لیبارٹری تجزیہ کے لیے بھی بھجوائیجا رہے ہیں تاکہ لوگوں تک پہنچنے والی ہر قسم کی خوراک معیاری اور صحت بخش ہو۔
Comments are closed.