پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رند برادری کی جانب سے پیپلز پارٹی کی پی ایس 38 پر ٹکٹ کی تقسیم اور پارٹی قیادت سے تحفظات کے بنیاد پر رند برادری کا رند ہاؤس سکرنڈ میں اہم اجلاس بلایا گیا

1

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رند برادری کی جانب سے پیپلز پارٹی کی پی ایس 38 پر ٹکٹ کی تقسیم اور پارٹی قیادت سے تحفظات کے بنیاد پر رند برادری کا رند ہاؤس سکرنڈ میں اہم اجلاس بلایا گیا اجلاس میں مشورے کے بعد طے کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام قادر چانڈیو کے مد مقابل آزاد امیدوار سکندر حیات رند ہوں گے اس موقع پر رند اتحاد کے مرکزی رہنما میاں خان رند ۔ اصغر علی رند ۔ دوست علی رند اور پی ایس 38 کے آزاد امیدوار سکندر حیات رند نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہم پیپلز پارٹی کے ہیں اور رہیں گے لیکن افسوس پارٹی نے ہمیں نظر انداز کرتے ہوئے بنا کسی صلاح مشورے کے ایسے صوبائی امیدوار نامزد کیا ہے جو پہلے ہی چار مرتبہ ایم پی اے رہ چکا ہے جس پر ہم رند برادری کے علاوہ دیگر برادری کے بھی تحفظات ہیں لیکن افسوس ہے کہ سب برادری کو نظر انداز کر کے پانچویں بار بھی اسی نمائندے کو ٹکٹ دی گئی ہے جس پر ہم نے مختلف برادری سے مشاورت کر کے آزاد الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا ہمیں جمہوری حق ہے اور اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے جو صحیح ذلفقار علی بھٹو کا فلسفہ ہے اور ہم اس چیز کے قائل ہیں اور ڈکٹیٹر شپ قبول نہیں ہے اور نہ ہی قبول کریں گے جبکہ ضلع شہید بے نظیر آباد میں ہماری رند برادری کے 60 ہزار ووٹ ہیں اور گزشتہ الیکشن میں ڈاکٹر فضل عذرا پیچو کو ایک ہی تک سے 25 ہزار ووٹ کرائے تھے اس کے باوجود بھی پانچ سال ہمیں نظر انداز کیا گیا انہوں نے مزید کہا کہ 22 جنوری کو اسٹیشن روڈ سکرنڈ میں جلسہ عام کے بعد الیکشن کمپین ورک چلانے کا سلسلہ شروع کریں گے اور انشاءاللہ ہمیں امید ہے 8 فبروری کو کامیابی حاصل کریں گے ہنگامی پریس کانفرنس میں نور احمد رند ۔ الھڈتو رند ۔ عبدالفتاح رند ۔ گل سندھی ۔ شوکت شیخ اور دیگر شخصیات بھی موجود تھی

Daily Askar

Comments are closed.