سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹوز (سی پی پی ڈی) نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ووٹرز کی سہولت کیلئے سفارشات پیش کر دیں۔

1

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹوز (سی پی پی ڈی) نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ووٹرز کی سہولت کیلئے سفارشات پیش کر دیں۔ اس سلسلے میں سی پی ڈی آئی کے زیراہتمام ایک مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی، سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر ،نصیر میمن،پروگرام منیجر یو ایس آئی پی مس سعدیہ، سینیٹر سیمی ایزدی، سابق ممبر صوبائی اسمبلی شگفتہ ملک،عاطف شیخ سمیت دیگر شریک ہوئے۔ سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی نے کہا کہ جمہوری نظام میں مسائل کی جانب توجہ مبذول کروانے کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور اسی طرح سے مسائل حل ہوتے ہیں،اج کے مذاکرے کا مقصد بھی یہی ہے کہ مسائل کی جانب اداروں کی توجہ دلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں ابھی بھی کچھ اقدامات اٹھائیں تو وہاں انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ کی شرح بہتر ہو سکتی ہے،ابھی بھی نادرا سیلاب کے دوران جن لوگوں نے شناختی کارڈ کھو دیئے، انہیں شناختی کارڈ فراہم کرے تو اس کی افادیت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کی فراہمی نادرا کی زمہ داری بنائی جائے اور نادرا گھر گھر جائے اور شناختی کارڈ فراہم کرے۔ نصیر میمن نے تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے شرکاء کو بریفننگ دی،سی پی ڈی آئی کی تحقیقاتی رپورٹ سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ کے خدشات کو ظاہر کرتی ہے، متاثرہ کمیونٹیز کے متعدد مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے،جو ووٹر ٹرن آؤٹ پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں شدید متاثر علاقوں میں تحقیق کے مطابق قومی شناختی کارڈز کی عدم موجودگی و حصول میں تاخیر،تباہ شدہ انفراسٹرکچر(سڑکیں،نامزد پولنگ سٹیشن،سکولوں کی عمارتیں) سیاسی کی رہنماؤں کی عدم دلچسپی، آفات کے بعد بحالی کی ناکافی کوششوں اور بے گھر کمیونٹی کا حق ووٹ اور شدید زخمی افراد کی عام انتخابات میں شرکت کیلئے ایک چیلنج بن سکتے ہیں،یہ نتائج سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انتخابی منظر نامے کو متاثر کرنے والے کثیر جہتی چیلنجوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق سقیلاب کے نتیجے میں دس ملین سے زائد افراد کو نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا، سندھ میں 2.1 ملین اور بلوچستان میں تقریباً 100,000 گھروں کو نقصان پہنچا،25 ہزار سکولوں کی عمارتیں متاثر ہوئیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سی پی ڈی آئی کی یہ تحقیق قابل تعریف ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگ ووٹ کیسے ڈالیں گے،یہ مسئلہ میڈیا کے ریڈار پر نہیں تھا بلکہ الیکشن کمیشن کے ریڈار پر بھی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سروے کے نتائج بہت اہم ہیں کہ جب سیلاب کی وجہ سے نقل مکانی ہوئی اور لوگوں نے اپنے شناختی کارڈ بھی کھو دیئے تو وہ ووٹ کیسے ڈالیں گے اور دوسرا یہ کہ جب لوگ نقل مکانی کر گئے تو ان کا پولنگ سٹیشن کہاں ہو گا؟ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دس ملین خواتین کے ووٹ نہیں بنے،ووٹ ڈالنا آپ کا حق ہے،اپ شناختی کارڈ کیلئے نادرا کے پاس جاتے ہو،نادرا انکار کر سکتا ہے،میرے حق کو میرے لئے ایک زمہ داری بنا دیا گیا ہے،پارلیمان کا کام ہے کہ اس پر غور کرے، شناخت صرف شناختی کارڈ نہیں ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور بولیویا میں بھی زلزلے سے تباہی ہوئی تھی،ان ممالک نے ایسے ہی مسائل سے احسن طریقے سے حل کیا،الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی دوسرے ممالک کے تجربات سے فایدہ اٹھانا چاہئے۔ سینیٹر سیمی ایزدی نے بھی شناختی کارڈ کی فراہمی کے حوالے تجاویز دیں۔ سی پی ڈی آئی نے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے اہل ووٹرز کو قبل از انتخابات شناختی کارڈ کی فراہمی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ الیکشن کمیشن کو نادرا سے رابطہ قائم کرنا چاہئے تا کہ ان ووٹرز کو شناختی کارڈز کی فراہمی کی کوشیش تیز کی جائیں جو سیلاب کے دوران اپنی شناختی کارڈ کھو چکے ہیں اور تاحال ڈپلیکیٹ حاصل نہیں کر سکے۔ الیکشن کمشن پولنگ سکیم ملک بھر کے ووٹرز کیساتھ شیئر کرے اور بالخصوص سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بروقت یہ رائے لی جائے کہ آیا ،پولنگ اسٹیشن قابل رسائی مقامات پر قائم ہیں یا نہیں۔ رائے دہندگان کی طرف سے موصول شدہ تاثرات اور تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے اور تمام پولنگ سٹیشنوں تک آسان رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ نقل مکانی کرنے والے افراد کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں جس میں مزید پولنگ سٹیشنوں کا قیام اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔ الیکشن کمیشن کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ووٹرز کی تعلیم اور معلومات کیلئے آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے۔

Daily Askar

Comments are closed.