اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ فلسطین کی موجودہ صورتحال میں مسلمان حکمرانوں نے جس بے حسی کا ثبوت دیا، اسلامی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ غزہ پر بمباری کو 43 روز گزر گئے، اسرائیلی افواج نے چارہزار بچے، تین ہزار سے زائد خواتین شہید کردیں، اب تک 12ہزار سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے، تین ہزار ملبے تلے دفن ہیں، اس تباہی اور ظلم و سفاکیت کے بیچ اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس ہوا جس میں امریکا جو اسرائیل کی سرپرستی کررہا ہے سے ہی جنگ بندی کرانے کی اپیل کی گئی، اعلامیہ محض نرم الفاظ پر مشتمل تھا جس کا صہیونی ریاست پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ غزہ کے حوالے سے پاکستان کے حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کا کردار بھی خاموشی کے زمرے میں آتا ہے، یہ سب امریکا کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ اس ساری صورتحال میں ملک میں جماعت اسلامی اہل فلسطین کے لیے بھرپور آواز اٹھارہی ہے، ہم نے کراچی میں اور اسلام آباد امریکی سفارت خانہ کے سامنے غزہ ملین مارچز کا انعقاد کیا، قومی فلسطین کانفرنس بلائی، سفیروں کو پاکستانی قوم کے جذبات اور مسئلہ کی نزاکت پرآگاہی کے لیے القدس کمیٹی تشکیل دی، میں نے ایران، ترکی اور قطر کا دورہ کیا۔ جماعت اسلامی کے اقدامات کے نتیجہ میں پوری ملت اسلامیہ میں اسلام آباد کی ستائش ہو رہی ہے۔ ہم اتوار (کل) کو لاہور میں تاریخی اور فقید المثال غزہ مارچ کا انعقاد کریں گے، یہ اجتماع جہاں ایک طرف اہلیان غزہ کے لیے پیغام ہوگا کہ پاکستانی قوم ان کی پشتیبان ہے وہیں پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے اس پرزور مطالبہ کا اظہار بھی ہوگا کہ مظلوموں کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری اور امیر جماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔
امیر جماعت نے کہا کہ کاش حکومت غزہ کو بچانے کے لیے عالمی سطح پر عملی اقدامات کرتی اور قومی سیاسی جماعتوں کی طرف سے متحد اور منظم ہو کر اہل فلسطین کے حق میں مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جاتا، تاہم یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ملک کے حکمران طبقات کو صرف اپنے اقتدار سے غرض ہے اور یہ مسند اقتدار کو ہی اپنے لیے عزت سمجھتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کی بحیثیت مجموعی عزت و تکریم سے ہی اس کے حکمرانوں کا رتبہ بڑھ سکتا ہے، افسوس کہ اہل اقتدار نے حمیت، جذبہئ ملی پر امریکا کی خوشنودی کو ترجیح دی اور غزہ میں ظلم پر خاموش رہنا پسند کیا، یہ حکمران طبقات ہی ہیں جن کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں بدامنی، مہنگائی، قرضے، بے روزگاری اور کرپشن جیسے مسائل موجود ہیں، حکمران گرمیوں میں بجلی اور موسم سرما میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر ظلم کرتے ہیں، انھوں نے آئی ایم ایف کی تابعداری میں غریبوں پر بے تحاشا ٹیکسز عائد کر دیے، رواں سال کا ٹارگٹ 9415ارب رکھا گیا ہے جو عوام کی جیب سے نکالا جائے گا، یہ استعمار کی وفاداری میں عوام کو نشانہ بناتے ہیں اور امت پر ظلم ہونے کی صورت میں چپ سادھ لیتے ہیں۔
سراج الحق نے کہا کہ غزہ میں خوراک، پانی، بجلی کی سپلائی بند ہے، شہر میں 36ہسپتالوں میں سے صرف 9جزوی طور پر کام کر رہے ہیں، صہیونی افواج نے ہسپتالوں پر بھی ٹینکوں سے چڑھائی کر رکھی ہے، مریضوں، خواتین سے بدتمیزی ہو رہی ہے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، نومولود بچوں کے لیے آکسیجن میسر نہیں۔ امید کی جا رہی تھی کہ اسلامی سربراہی کانفرنس 57ممالک کی سطح پر فلسطین فنڈ کے قیام کا اعلان کرتی اور کم از کم اسرائیل کے سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کا اعلان کیا جاتا، ہونا یہ چاہیے تھا ریاض میں اکٹھے ہونے والے حکمران مغرب اور امریکا کو پیغام دیتے کہ غزہ میں جنگ بندی کرائی جائے اور اسرائیل کی پشت پناہی بند ہو، بصورت دیگر تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا جائے گا، تاہم یہ بیٹھک بھی مایوس کن اور امت مسلمہ کی توقعات کے برعکس ثابت ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ تناظر میں پوری دنیا میں انسانیت سے ہمدردی رکھنے والے عوام اکٹھے ہو چکے ہیں، فلسطین کے حق میں ہر جگہ بڑے بڑے مظاہروں اور مارچز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستانی قوم کے فلسطین پر جذبات سے پوری دنیا کو آگاہ کر رہی ہے،الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے غزہ کے لیے امداد اکٹھی کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اتوار کو ہونے والے غزہ مارچ میں خواتین، بزرگ اور بچے بھی شرکت کریں، آنے والوں کا انتظار اور استقبال کروں گا۔ مرکزی شعبہ نشرواشاعت جماعت اسلامی
Comments are closed.