ایف پی سی سی آئی 700 میگاواٹ کے 13 اہم قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی منظوری دینےپر وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کو سراہتی ہے:عرفان اقبال شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

1

 

وفاق ایوانہائے تجارت وصنعت پاکستان

ایف پی سی سی آئی 700 میگاواٹ کے 13 اہم قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی منظوری دینےپر وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کو سراہتی ہے:عرفان اقبال شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے قابل تجدید توانائی کے 13 اہم منصوبوں؛ جو کہ کیٹیگری تھری(III) کے تحت آتے ہیں اور تقریباً 700 میگاواٹ پر مبنی ہیں؛ کی اصولی منظوری دینے پر وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی تعریف کی ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور گردشی قرضے صنعتی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ انرجی کی قیمتوں کو قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے زریعے کنٹرول کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کی طرف سے تشکیل دی گئی ا علیٰ اختیاراتی کیبنٹ کمیٹی کے اس معاملے میں اہم کردار کی بھی تعریف کی۔ عرفان اقبال شیخ نے آگاہ کیا کہ سولر اور ونڈ کے 13 مجوزہ رینوا یبل انرجی پلانٹس کہ جنہیں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 2020 میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے کم ٹیرف دیا تھا کو اس وقت وزارت توانائی کی جانب سے ڈیویلپمنٹ کی منظوری نہیں دی گئی؛ جس کے نتیجے میں پراجیکٹس کی لاگت میں کافی اضافہ ہوا اور تاجروں اور سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزارت نے انہیں بر وقت ڈیویلپمنٹ دینے کی اجازت دی ہو تی تو اب تک تمام منصوبے مکمل ہو چکے ہوتے۔صدرایف پی سی سی آئی نے اپنی اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اب بین الصوبائی باڈی یعنی مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) جلد از جلد اس اقدام کی منظوری دے دے گی؛ کیونکہ ان منصوبوں سے تمام صوبے مستفید ہوں گے۔اس موقع پر CACCI کے نائب صدر اور ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر خرم طارق سعید نے بھی وزیراعظم اور کابینہ کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی گزشتہ تین سالوں سے ان منصوبوں کو قومی مفاد میں اجازت دینے کے لیے آواز اٹھا رہی ہے؛ کیونکہ وہ نہ صرف ملک کے لیے توانائی کی لاگت کو کم کرنے کے لیے راہ ہموار کریں گے؛ بلکہ یہ توانائی کے درآمدی بل اور گردشی قرضوں میں بھی کمی لائیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ، یہ منصوبے قلیل مدت میں 500 ملین ڈالر کی انتہائی ضروری غیر ملکی سرمایہ کاری بھی پاکستان لائیں گے اور ملک کو 20 ارب روپے سالانہ کی بچت ہوگی۔

 

Daily Askar

Comments are closed.