گیس ٹیرف میں مجوزہ ظالمانہ اضافے سے 4.3 ملین صارفین متاثر ہوں گے:عرفان اقبال شیخ، صدر ایف پی سی سی آئی

1

کراچی (28 اکتوبر 2023) : صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے حکومت کو پیشگی خبردار کیا ہے کہ کمرشل اور صنعتی صارفین پر گیس کے نرخوں میں اضافے کے شدید اثرات مرتب ہوں گے اور ان صارفین کی تعداد 4.3 ملین تک ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پہلے ہی مہنگائی کے تاریخی دباؤ کی زد میں ہے؛اسی لیے معاشی ٖفیصلے سوچ سمجھ کر کرنا ہوں گے۔یہ بات قابل غور ہے کہ اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ECC) پہلے ہی اس اضافے کی منظوری دے چکی ہے اور کابینہ کی توثیق کا انتظار ہے۔غالب امکان یہ ہے کہ حکومت یکم نومبر 2023 سے نئے ٹیرف کو لاگو کرنے جا رہی ہے۔ یہ ایک نقصان دہ معاشی فیصلہ ہو گا اور مجوزہ اضافے کو برآمدات پر مبنی صنعتوں کے لیے قابل برداشت بنایا جانا چاہیے۔صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے نشاندہی کی کہ ایکسپورٹ پر مبنی صنعتوں کے لیے گیس ٹیرف میں 86 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے اور اب اس کے نرخ 2,050 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو(MMBtu) اور دیگر صنعتوں کے لیے اس میں 117 فیصد اضافہ کرکے کردیا گیا ہے اور اب یہ 2,600 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو(MMBtu) ہو گی۔ صنعتیں اس بڑے پیمانے پر، یک طرفہ اور نا سوچے سمجھے اضافے کو برداشت نہیں کر پائیں گی۔ صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے وفاقی کابینہ سے اس کی توثیق اور اس کے بعد عمل درآمد کو روکنے کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی اعلیٰ کمیٹی سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ SIFC پاکستان میں فارن ڈائریکٹ انوسیمنٹ لانے کے لیے کوشاں ہے؛لیکن حکومت کو کاروبار کرنے کی لاگت کو قابل برادشت حد تک برقرار رکھنے کی اہمیت کا کوئی اندازا نہیں ہے۔ عرفان اقبال شیخ نے تجویز پیش کی کہ حکومت گیس سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کو کم کرنے کے لیے دیگر اقدامات کرے؛ جیسا کہ لائن لاسز کو کم کرنا؛ کراس سبسڈی کا خاتمہ؛ سسٹم سے غائب ہو جانے والی (UFG) کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے سائنسی بنیادوں پر سروے کرنا؛ ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو پیشہ ورانہ انتظام کے ذریعے چلانا؛ سرکاری، نیم سرکاری اور نجی شعبے کے نادہندگان اور گیس چوری کرنے والوں سے واجبات کی وصولی شامل ہیں۔ صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے وفاقی نگراں وزیر برائے توانائی، بجلی اور پیٹرولیم کو بھی مشاورتی عمل کے لیے ٹریڈ کے اعلیٰ ترین ادارے ایف پی سی سی آئی میں مدعو کیا؛ تاکہ توانائی اور بجلی کے شعبوں سے متعلق آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے؛ سرکلر ڈیٹ میں کمی اور سرکاری گیس کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ کر نے کے لیے متبادل راستے تلاش کیے جا سکیں۔ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نائب صدر محمد سلیمان چاؤلہ نے وضاحت کی کہ برآمدات پر مبنی صنعتوں کے لیے مجموعی طور پر گیس کی قیمت 2,300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو(MMBtu) کے لگ بھگ ہوگی؛ کیونکہ اس کی قیمت میں مزید 10 فیصد کا اضافہ ری گیسیفائیڈمائع قدرتی گیس (RLNG) کی بلینڈنگ کی صورت میں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمرشل صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں اضافہ عام شہریوں کے لیے بھی مہنگائی کو مزید ہوا دے گا؛ لہذا، حکومت کو اس اضافے پر دوبارہ غور کرنے اور لاگو ہونے سے پہلے متاثرہ شعبہ جات و طبقات کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

Daily Askar

Comments are closed.