سابق ویر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ بجلی کے اس وقت سب سے بڑا اشو ہے، بجلی کے بل عوام کے لئے عذاب بن گئے ہیں، بجلی بلوں سے ہر شخص پریشان ہے، بجلی کے بلوں کی غلط ریڈنگ دی گئی ہے جو لمحہ فکریہ ہے، پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ عوام کو رلیف ملے۔
سابق وزیر بلدیات ناصر شاہ کے ہمراہ بلاول ہائوس کراچی مین پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پئپلز پارٹی کو تونائی کے بحران کا ادراک تھا اس لئے پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں توانائ منصوبوں پر کام کیا اور اس ضمن میں اقدامات کئے، پورٹ قاسم میں ایک پلانٹ کے لئے کوئلے سے 1320 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، تھرر کول منصوبے سے 2660 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے، لکی سیمنٹ میں ایک چائنیز پاور پلانٹ کی جانب سے تھر کے کوئلے سے 1320 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، کوئلے سے بجلی کے پیداوار پر تنقید کی گئی، لیکن سب سے سستی بجلی کوئلے سے پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت 250 میگا واٹ کا پلانٹ گھوٹکی میں چل رہا ہے، ورلڈ بئنک کے تعاون سے چار سو میگاواٹ کا ایک سولرپارک بھی ہم کراچی میں بنانے جا رہے ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ لوگوں کی بجلی اتنی استعمال نہیں ہوئی، اندازوں پر بل جاری کئے گئے، عوام کو غلط بل بھیجے جا رہے ہیں، جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں، جہاں پر غلط بل جاری کئے گئے، وہاں پر الیکٹرک کمپنیز نوٹس لیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں ونڈ پاور پلانٹ سے بجلی نیشنل گرڈ کو دی جا رہی ہے, اس وقت لوگ بجلی کے بل ادا نہیں کر پا رہے، حکومتوں کا کام عوام کو مشکل حالات میں ریلیف دینا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پانچ لاکھ خاندانوں کو پیپلزپارٹی سولر پینل دے رہی ہے، جس کا دس فیصد خاندان والے خود ادا کرینگے نوے فیصد پیپلزپارٹی دے رہی ہے، بی آئی ایس پی کے تحت لوگوں کو سولر سسٹم دیئے جارہے ہیں، مہنگائی کے دور میں لوگوں کو ریلیف دینا ناگزیر ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے 2 لاکھ خاندانوں کو سولر سسٹم کے تحت بجلی پیدا کرنے کی سہولت دی، ہمیں اندازہ تھا، توانائی کا بحران آئے گا، اس لئے ہم نے یہ پروگرام شروع کیا تھا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سیلاب میں 21 لاکھ گھر بنانے کی بات کی تو چیئرمین بلاول نے کہا کہ ان کو بھی سولر سسٹم دیا جائے، مسائل کے باوجود آج بھی پیپلز بس سروس 50روپے میں لوگوں کو سروس دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیلزپارٹی نے کے الیکٹرک کی نجکاری کی مخالفت کی تھی، کے الیکٹرک کا منافع سسٹم کو بہتر بنانے کے بجائے مالکان کی جیب میں جا رہا ہے، دیہی سندھ میں بیس، بیس گھنٹے بجلی کی فراہمی بند رہتی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 24 روز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی چیخیں نکل گئیں، عمران خان کو 5 اگست کو گرفتار کیاگیا، 29 اگست کو سزا معطل کردی گئی، 24 دنوں کے اندر ان کو رلیف دیا گیا، جن کی انصاف کی اپیلیں پینڈنگ پڑی ہیں، ان کو بھی اس طرح رلیف دیا جائے، انصاف کے منتظر لوگ، 20 20۔سال جیلوں میں سڑ رہے ہیں، پیپلز پارٹی اور مختلف پارٹیوں کے لوگ محض انویسٹیگیشن کے نام پر پانچ پانچ سال جیل میں رکھا گیا، لاڈلے کے لئے وی آئی پی انصاف قابل قبول نہیں، گڈ ٹو سی یو اور لاڈلہ ازم کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ تقسیم کی باتیں کرنے والوں کو رعایت دی گئی، پاکستان میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیئے، جس نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اس کا کیس سننے کیلئے آپ کے پاس وقت نہیں ہے جس نے اداروں کے خلاف مہم چلائی اس شخص کو رعایت نہیں ملنی چاہیئے،
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی دودھ اور چرغے کی فرمائشیں کررہے ہیں۔
ایک سوال۔کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومینٹ نے پہلے بھی نوکریوں پر اسٹے آرڈر لیا تھا، پیپلز پارٹی کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی یے کہ ہم لوگوں کو روزگار دیتے ہیں، اگر ہماری نیت میں کسی بھی قسم کی بدنیتی ہوتی تو ہم۔پہلے ہی یہ نوکریاں دے دیتے، لیکن ہر چیز کا ایک طریقیکار ہوتا ہے، جن لوگوں کو نوکریاں مل رہی تھیں ان لوگوں کے ٹیسٹ ہوئے تھے، پاس ہونے والوں کو نوکریاں دی جارہی تھیں، اس مہنگائی کے دور میں جن لوگوں کو نوکریاں ملنی تھیں، آج وہ سراپا احتجاج ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر بلدیات سید ناصر شاہ نے کہا کہ جتنے بھی اتحاد بن جائیں، وہ پیپلز پارٹی کے سامنے ٹک نہیں سکتے، نتائج آپ لوگوں نے سامنے آجائیں گے، اور انشااللہ بہتر ہی نتائج ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد بنتے رہتے ہیں، لیکن پاکستان پیپلز پارٹی ان کو اپنے لئے کوئی چیلنج نہیں سمجھتی، سندھ میں جو انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی سوئیپ کرے گی، اور الیکشن جیتنے کے بعد غربت، مہنگائی اور بیروزگاری سے ہمارا اصل مقابلہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں جو اضافی کیا گیا ہے، پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ اس کا بریک اپ دیا جائے، اضافی بلوں میں بھی ڈنڈی ماری جارہی ہے۔
Comments are closed.