عدالت عالیہ بلوچستان کے ججز جناب جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جناب جسٹس شوکت علی رخشانی پر مشتمل بینچ نے درخواست کو جناب چیف جسٹس کے سامنے رکھ کر لارجر بینچ تشکیل دینے کا حکم دیا ہے

1

کوئٹہ30 اکتوبر:۔عدالت عالیہ بلوچستان کے ججز جناب جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جناب جسٹس شوکت علی رخشانی پر مشتمل بینچ نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 19 اکتوبر 2023 کو جاری کردہ بلدیاتی انتخابات کا شیڈول اگلی سماعت تک معطل کرتے ہوئے درخواست کو جناب چیف جسٹس کے سامنے رکھ کر لارجر بینچ تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ آئینی درخواست ایڈوکیٹ کامران مرتضیٰ نے دائر کررکھی ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ اس عدالت نے مورخہ 23 دسمبر کے فیصلے کے ذریعے میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ اور ڈسٹرکٹ کونسل کوئٹہ کی نئی حد بندی کے لیے معاملات الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حوالے کیے ہیں۔ اور حکومت بلوچستان نے 22 اگست 2022 کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2010 میں پہلے ہی ترمیم کی تھی، جس کے ذریعے ضلع کونسل کوئٹہ کو ختم کر کے کوئٹہ شہر کو چار ٹاؤنز یعنی زرغون، چلٹن، تکتو اور سریاب میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جب کہ یہ تمام ٹاؤنز بلوچستان لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ کے ذریعے کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن میں ضم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2010 میں ترمیم کے بعد پوری اسیکم کو اچانک تبدیل کر دیا گیا جس کی وجہ سے نئی پیدا شدہ صورت حال کے باعث حد بندی کے عمل کو نئے سرے سے شروع کرنے کی ضرورت ہے اور مردم شماری 2017 کی بنیاد پر دیا گیا انتخابی شیڈول ہزاروں ووٹرز کو محروم کر دے گا۔ معزز بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سیکریٹری صوبائی اسمبلی کو نوٹس جاری کردیا جائے کہ وہ سابق صوبائی اسمبلی کے موجود ارکان کی تعداد اور ووٹنگ بارے تفصیلات عدالت کو پیش کریں۔ معزز بینچ نے اس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

Daily Askar

Comments are closed.