پاکستان میں پولیس اصلاحات: وفاقی کنٹرول اور فوجی افسران کی تعیناتی کی تجاویز

14

 *اسلام آباد، 22 دسمبر 2025 (سردار طارق خان)

حکومت پاکستان نے پولیس نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی تیاری کر لی ہے، جس کی سمری وزارت داخلہ نے تیار کر دی ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت چاروں صوبوں کی پولیس کو وفاقی سطح پر لایا جائے گا، جبکہ ڈسٹرکٹ سطح پر کمانڈ فوجی افسران کو سونپی جائے گی۔ تجاویز میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کی سطح تک برگیڈیئر اور میجر جنرل جیسے سینئر فوجی افسران کی تعیناتی بھی شامل ہے، جو اندرونی سلامتی کو مزید مستحکم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہ سمری 27ویں آئینی ترمیم کا حصہ ہے، جو پولیس آرڈر 2002 کو مزید وسعت دے گی۔ اس کے تحت پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی تمام صوبائی پولیس فورسز کو وفاقی کنٹرول کے تحت لایا جائے گا، تاکہ دہشت گردی، فسادات اور سائبر جرائم جیسے قومی خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ فنانس منسٹری کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ “یہ قدم 2025 کی نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا اہم جزو ہے، جو صوبائی سطح پر موجود تضادات کو ختم کرے گا۔” تاہم، صوبائی حکومتیں اس تجویز پر تحفظات ظاہر کر رہی ہیں، کیونکہ یہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری کو چیلنج کر سکتی ہے۔

ڈسٹرکٹ سطح پر فوجی افسران کی تعیناتی کی تجاویز خاص طور پر اہم ہیں، جو مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ سرحدی تنازعے کے بعد سامنے آئیں۔ اس پلان کے تحت، ہر ضلع میں پولیس کی آپریشنل کمانڈ برگیڈیئر (بی پی ایس 18) یا میجر جنرل (بی پی ایس 19) جیسے فوجی افسران کو دی جائے گی، جو ڈی پی او کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ایک سینئر دفاعی حکومتی نے نام چھپانے کی شرط پر کہا، “یہ انٹیگریٹڈ کمانڈ سسٹم فوج اور پولیس کو ایک پلیٹ فارم پر لائے گا، جو کاؤنٹر انسرجنسی آپریشنز کو تیز کرے گا۔” فریئر کنسٹی بیولری (ری آرگنائزیشن) آرڈیننس 2025 کے تحت پہلے ہی وفاقی سطح پر نئی فورس بنائی جا چکی ہے، جو صوبوں میں تعینات ہو گی۔

ان اصلاحات کی سمری وزارت داخلہ نے کابینہ کو پیش کر دی ہے، اور توقع ہے کہ جنوری 2026 تک اس پر منظوری مل جائے گی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ فوجی مداخلت پولیس کی سویلین نوعیت کو کمزور کر سکتی ہے، جیسا کہ جنرل مشرف دور کی اصلاحات میں ہوا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں قومی سلامتی تو بہتر کریں گی، مگر صوبائی مزاحمت کی وجہ سے نفاذ میں چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ حکومت نے وضاحت دی ہے کہ یہ اقدامات صرف سلامتی کے لیے ہیں، اور پولیس کی بنیادی ذمہ داریاں تبدیل نہیں ہوں گی۔

Web Desk

Comments are closed.