عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
پشاور، 23 نومبر 2025ء — وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت اسپیشل برانچ پولیس سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسپیشل برانچ کو باقاعدہ اسپیشلائزڈ یونٹ اور علیحدہ کیڈر کے طور پر قائم کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں اسپیشل برانچ میں 1,221 نئی اسامیوں کی تخلیق کی اصولی منظوری دیتے ہوئے صوبے بھر میں نئی عمارتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے اسپیشل برانچ کو درکار تمام ہیومن ریسورس، ساز و سامان اور مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
صوبائی حکومت نے اسپیشل برانچ کے انفراسٹرکچر کے لیے 1,820 ملین، موٹر وہیکلز کے لیے 904.7 ملین اور جدید ٹیکنیکل آلات و ٹیکنالوجی کی خریداری کے لیے 2,543.9 ملین روپے منظور کیے ہیں۔ اسپیشل برانچ کے لیے 98 گاڑیاں اور 404 موٹر سائیکلیں بھی ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے اسپیشل برانچ کے مجوزہ الاؤنسز کو منظوری کے لیے فوری طور پر پیش کرنے کی ہدایت بھی دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اسپیشل برانچ کے اہلکار انٹیلیجنس، سیکیورٹی، ویریفیکیشن، سروے اور سرویلنس کی اہم ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں، جبکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے 308 اہلکاروں کو بھی اسپیشل برانچ میں شامل کیا جا چکا ہے۔
بریفنگ کے مطابق سال 2025 میں اسپیشل برانچ نے کارروائیوں کے دوران 2 خودکش جیکٹس، 32 آئی ای ڈیز، 70 راکٹ شیلز اور 288 ہینڈ گرینیڈز ناکارہ بنائے، جبکہ 635 سیاسی اجتماعات کی سیکیورٹی کے ساتھ اسلحہ اور ایکسپلوسِو لائسنس کی ویریفیکیشن بھی مکمل کی گئی۔ اسی عرصے میں 3,124 نادرا، 6,840 پاسپورٹ، 14,518 سی پیک، 6,060 پرسنل اور 9,413 سرکاری اہلکاروں کی ویریفیکیشنز بھی انجام دی گئیں۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس ریاست کا مضبوط ستون ہے اور اسپیشل برانچ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے، تاکہ انٹیلیجنس اور انسدادِ دہشت گردی کے تقاضوں کے مطابق محکمے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
Comments are closed.