اللہ کی نشانیاں 

67

(از قلم :رابعہ سعید)

قرآن کے رازوں میں سے ایک راز اللہ کی نشانیاں ہیں اللہ کی نشانیاں
(آیا ت اللہ )کائنات کے ہر حصے میں موجود ہیں جس میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق ,دن رات کا بدلنا ,انسان کی اپنی پیدائش اور فطرت کے عجائبات شامل ہیں سورہ روم کی آیت نمبر 20 سے 25 میں اللہ تعالی نے اپنی قدرت اور وحدانیت کی چھ بڑی نشانیاں بیان فرمائی ہیں ـ
یہ نشانیاں کیا ہیں ؟
کیا یہ ہر انسان کے لیے ہیں؟
کیا انسان اپنی کوشش سے ان نشانیوں کو سمجھ سکتا ہے؟
وہ کون سی صفات ہیں جن کو اپنانے سے انسان اس قابل ہو سکتا ہے کہ زندگی میں ان نشانیوں کو سمجھتے ہوئے اپنی زندگی بہتر بنا سکے اور وہ کون سے گناہ اور برائیاں ہیں جن کی وجہ سے ہم اس قابل نہیں رہتے کہ نشانیوں کو سمجھ سکیں ان سب سوالوں کا جواب قرآن سے لیتے ہیں ـ
سورہ روم آیت 20 سے 25 کے مطابق درج زیل چیزوں میں انسان کے لیے نشانیاں ہیں:-
1: انسان کی اپنی اندرونی کیفیت:-
مثلا: یہ دیکھنا کہ کسی بات کو لے کر ہمارے اندر بے چینی ہے یا سکون ہے یہ باتیں الہام ہوتی ہیں جن پر غور کر کے ہم اللہ کی نشانیوں کو سمجھ سکتے ہیں
2: میاں بیوی
یہ رشتہ خدا کے کلام سے بنتا ہے اس لیے بہت محترم ہے شوہر بیوی کے برتاؤ اور الفاظ میں اللہ کی طرف سے بہت سی نشانیاں ہوتی ہیں جن کو سمجھ کر ہم بہت سے مسائل کو حل کر سکتے ہیں
3: زمین میں آسمان میں کوئی بدلاؤ:
مثلا بارش, دھوپ، فصلیں قحط ،ان میں بھی اللہ کی نشانیاں موجود ہیں اس سے ہمیں اللہ کی خوش ہونے یا ناراض ہونے کا پتہ چلتا ہے ـ

4: دن اور رات کی نیند
ان میں جو خواب آتے ہیں خاص طور پر رات کے آخری پہر اور ظہر کے بعد جب قیلولہ کیا جاتا ہے ان میں بھی اللہ کی نشانیاں موجود ہوتی ہیں اور بہت سے ایسے راز افشاں ہوتے ہیں جو ہمیں آنے والی زندگی میں رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں
5: اللہ کے فضل کی تلاش
ہمارے بہت سے معاملات کی اصلاح اللہ کے فضل کی محتاج ہیں ـ یہ فضل دوسروں کی دی ہوئی دعاؤں سے حاصل ہوتا ہے ـ

6: ہماری روزمرہ زندگی میں دوسروں کے کہے ہوئے الفاظ اور اعمال ان پر غور کرنے سے بھی انسان اللہ کے دیے ہوئے میسج کو سمجھ سکتا ہے

اللہ کی نشانیوں کو سمجھنے کے لیے درج ذیل خصوصیات کا انسان میں ہونا ضروری ہے ـ
1: ایمان و تقوی
2: صبر
3: توکل علی اللہ
4: غور و فکر
جب انسان میں یہ خصوصیات پیدا ہوتی ہیں تو اللہ کی نشانیوں کو سمجھنے لگتا ہے اور اپنی زندگی اس کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق گزارتا ہے اور اپنی دنیا اور آخرت بہتر کر سکتا ہے
کچھ عادات اور برائیاں ایسی ہیں جن کو اپنانے سے انسان ان نشانیوں کو سمجھنے سے قاصر ہو جاتا ہے اور اللہ تعالی نے ایسے لوگوں کے لیے گونگے بہرے اور اندھے کے الفاظ استعمال کیے ہیں ایسے لوگوں میں درج زیل خرابیاں پیدا ہوتی ہیں جن کا ذکر سورۃ البقرہ میں آتا ہے :ـ
1: اللہ اور قیامت کے دن پر سچے دل سے یقین نہ رکھنا صرف زبان سے کہنا ـ
2: دھوکے بازی
3: فساد پھیلانے والے
4: نیک لوگوں کو بے وقوف سمجھنے والے
5: برے لوگوں میں بیٹھ کر نیک لوگوں کا مذاق اڑانے والے-

(والله ورسوله اعلم)

Web Desk

Comments are closed.