تحریر: رامین رعنا
6 نومبر یہ تاریخ صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک داستانِ وفا، قربانی اور عزم کی علامت ہے۔یہ وہ دن ہے جب جموں و کشمیر کی زمین مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو گئی۔ وہ دن جب معصوم انسانوں نے صرف اس لیے اپنی جانیں نچھاور کر دیں کہ وہ اپنے عقیدے، اپنی شناخت اور اپنے خواب کے ساتھ جینا چاہتے تھے۔
یومِ شہدائے کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آذادی کی راہیں کبھی آسان نہیں ہوتیں، بلکہ یہ قربانی، استقامت اور ایمان کا ایک طویل سفر ہے۔ یہ دن کشمیری قوم کی عظیم جدو جہد کی علامت بھی ہے اور پاکستان کے قومی شعور کا ایک لازوال حصہ بھی۔
برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد جب دنیا آذادی کی خوشی منا رہی تھی، اُس وقت کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کا ایک نیا باب رقم کیا جا رہا تھا۔6 نومبر 1947 کو جموں کے علاقے میں ایک خونی سانحہ پیش آیا۔ ایسا سانحہ جس نے انسانیت کے سر کو شرم سے جھکا دیا۔
ریاست جموں و کشمیر کے حکمراں مہاراجہ ہری سنگھ، اُس کی ڈوگرہ فوج، اور آر ایس ایس کے مسلح انتہا پسندوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک منظم منصوبہ بنایا۔اس منصوبے کے تحت جموں اور اس کے مضافات میں مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، صرف چند دنوں میں دو لاکھ سے زائد مسلمان شہید کیے گئے۔یہ وہ لوگ تھے جو محض اس خواب کے ساتھ اپنے گھروں سے نکلے تھے کہ وہ پاکستان کی سرزمین تک پہنچ جائیں گے۔مگر ان کے قافلے ریلوے اسٹیشنوں، سڑکوں اور کھیتوں میں ہی خون میں نہلا دیے گئے۔ عورتوں کی عزتیں پامال ہوئیں، بچوں کو ماں باپ کے سامنے ذبح کیا گیا، گھروں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا۔
لاشوں کے انبار لگا دیے گئے اور جموں کی فضاؤں میں اذان کی آواز کے ساتھ آہ و بکا گونجنے لگی۔
ان مظلوموں کا واحد “جرم” یہ تھا کہ وہ “پاکستان ذندہ باد” کے نعرے لگا رہے تھے۔جموں کا قتلِ عام دراصل ایک منظم نسل کشی تھی، جس کا مقصد ریاست میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل دینا تھا۔مورخین کے مطابق، ڈوگرہ حکومت نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کیا تاکہ مستقبل میں کشمیر کا سیاسی نقشہ بدل دیا جائے۔ہزاروں خاندان پاکستان کی سرحد تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔جموں کے دریاؤں میں بہتا ہوا پانی آج بھی ان شہداء کے لہو کی گواہی دیتا ہے۔
ان کے خون نے کشمیر کی مٹی کو ہمیشہ کے لیے مقدس بنا دیا۔یہ شہداء ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قومیں خون کے چراغ جلائے بغیر آذادی کی روشنی حاصل نہیں کرتیں۔
ان شہداء کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ جڑنا چاہتے تھے ۔ اُس مملکت کے ساتھ جو “لا الٰہ الا اللہ” کے نام پر قائم ہوئی۔کشمیر کے ان بہادر فرزندوں نے ہمیں یہ سبق دیا کہ آذادی کوئی عطیہ نہیں بلکہ قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔
انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر ایک تاریخ رقم کی، جس کی سیاہی ان کے لہو سے لکھی گئی۔ایک کشمیری ماں کے الفاظ آج بھی دل کو دہلا دیتے ہیں“ہمیں صرف اس جرم میں قتل کیا گیا کہ ہم پاکستان سے محبت کرتے تھے۔”
یہی محبت آج بھی کشمیریوں کے دلوں میں ذندہ ہے۔ کشمیر کا ہر نوجوان، ہر بوڑھا، ہر بچہ اسی خواب کی تعبیر کے لیے جدو جہد کر رہا ہے، جو 1947 کے شہداء نے دیکھا تھا۔
پاکستان اور کشمیر کا رشتہ محض زمین کا نہیں بلکہ دل اور ایمان کا رشتہ ہے۔بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا“کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔” یہ الفاظ صرف سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک نظریاتی حقیقت ہیں۔پاکستان کے پرچم کی سبز و سفید دھاریاں دراصل اسی خون سے روشن ہیں جو جموں و کشمیر کے شہداء نے بہایا۔
ہر سال 6 نومبر کو جب ہم یومِ شہدائے کشمیر مناتے ہیں تو ہم دراصل اپنے ایمان، اپنے وعدے اور اپنے عزم کو تازہ کرتے ہیں۔دنیا آج انسانی حقوق کی بات کرتی ہے، مگر کشمیر کے زخموں پر خاموش ہے۔اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود بھارتی افواج نے وادی کو ایک فوجی قیدخانہ بنا رکھا ہے۔
ہزاروں نوجوان لاپتہ ہیں، عورتیں بیوہ ہو چکی ہیں، بچے یتیم ہو گئے ہیں۔
پیلٹ گنز، کرفیو، اور میڈیا بلیک آؤٹ کے باوجود کشمیری عوام کا حوصلہ نہیں ٹوٹا۔ان کے چہروں پر دکھ ہے مگر آنکھوں میں آذادی کا خواب آج بھی روشن ہے۔دنیا کا میڈیا مغرب کے ایک واقعے پر چیخ اٹھتا ہے مگر کشمیر کی لاشوں پر خاموش رہتا ہے۔یہی دوہرا معیار عالمی ضمیر پر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔
یومِ شہدائے کشمیر صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ ایک ذندہ عہد ہے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے ان شہداء کے خواب کو حقیقت بنانا ہے۔پاکستان کے نوجوانوں پر اب یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیر کے لیے اپنی آواز بلند کریں، چاہے وہ قلم کے ذریعے ہو، میڈیا کے پلیٹ فارم سے، یا بین الاقوامی سطح پر سفارتی محاذوں پر۔
یہ وقت صرف آنسو بہانے کا نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے کا ہے۔
کیونکہ آذادی کی جنگ صرف بندوق سے نہیں، سچائی، علم اور عزم سے بھی جیتی جاتی ہے۔آج بھی کشمیر کی گلیوں میں “ہم کیا چاہتے؟ آذادی ” کی صدائیں گونجتی ہیں۔
بھارتی حکومت کے تمام ہتھکنڈوں، پابندیوں اور ظلم کے باوجود کشمیری عوام نے ہار نہیں مانی۔
ان کے ایمان کی طاقت دنیا کے ہر ظلم سے زیادہ مضبوط ہے۔
یہ لوگ دنیا کو یاد دلا رہے ہیں کہ بندوقیں خوابوں کو نہیں مار سکتیں، اور قیدخانے ارادوں کو قید نہیں کر سکتے۔
یہی وہ جذبہ ہے جو 1947 کے شہداء سے آج کے کشمیری نوجوانوں تک منتقل ہوا ہے۔یہی وہ تسلسل ہے جو تحریکِ آذادی کشمیر کو ذندہ رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان ہر سال یومِ شہدائے کشمیر مناتا ہے تاکہ دنیا کو یاد دلایا جا سکے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔پاکستان کی حکومت، افواج اور عوام ہمیشہ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے حامی رہے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف سرحدوں کا نہیں بلکہ انسانیت اور انصاف کا ہے۔پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے، یہی امن کی ضمانت ہے۔
یومِ شہدائے کشمیر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔یہ دن تجدیدِ عہد کا دن ہے کہ ہم اپنے شہداء کو نہیں بھولیں گے۔ایک دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی وادیوں میں آذادی کی اذان گونجے گی، جب شہداء کی قربانیاں رنگ لائیں گی، جب مظلوم ماؤں کی آنکھوں کے آنسو امید میں بدل جائیں گے۔کشمیر کا ہر قطرہ خون گواہی دیتا ہے کہ آذادی قریب ہے۔
یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ قومیں اپنے شہداء کو بھلا کر زندہ نہیں رہ سکتیں۔ 6 نومبر صرف ایک تاریخ نہیں، یہ قربانی، وفا اور ایمان کی علامت ہے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد محض ایک خطے کی جنگ نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی غیرت اور بیداری کا امتحان ہے۔
کشمیر کے شہداء نے اپنی جانیں دے کر ہمیں یہ سبق دیا کہ ظلم عارضی ہوتا ہے مگر سچائی ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
یہ دن ہمیں اس وعدے کی یاد دلاتا ہے کہ ہم ان خوابوں کی حفاظت کرتے رہیں گے جن کی تعبیر شہداء کے خون سے لکھی گئی۔
ایک دن ضرور آئے گا جب کشمیر کے آسمان پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہوگا، جب یہ دنیا گواہی دے گی کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔ تب تاریخ کہے گی.
“یہ وہ قوم ہے جو اپنے شہداء کی وارث تھی، اور اپنے وعدے کی پاسدار رہی۔”
Comments are closed.