وزیر اعلی بہار، راون اور سیتا

9

 قیادت وہ آئینہ ہے جس میں کسی قوم کے اخلاقی کردار کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ وہ معاشرے جو خود کو جمہوری بلوغت کا حامل سمجھتے ہیں، وہاں منتخب قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ضبط، وقار اور تمام شہریوں کے حقوق اور جذبات کے احترام کی عملی مثال بنے۔ ووٹ محض اقتدار کی منتقلی کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ یہ اعتماد کا ایک عہد ہے، جس کے ذریعے عوام اپنے نمائندوں کو اپنی عزت، ایمان اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کی ذمہ داری سونپتے ہیں۔ بھارت طویل عرصے سے خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا آیا ہے اور آئین، تکثیریت اور قانون کی بالادستی پر فخر کرتا ہے۔ تاہم وقتاً فوقتاً ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو اس خوش نما تاثر میں دراڑ ڈال دیتے ہیں اور پردے کے پیچھے چھپی تلخ حقیقتوں کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں بھارتی ریاست بہار میں پیش آیا، جہاں وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے وہ حد عبور کی جس کے قریب بھی کسی مہذب رہنما کو نہیں جانا چاہیے تھا۔

ایک عوامی تقریب میں، کیمروں اور شرکاء کی موجودگی میں، انہوں نے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر نصرت پروین کا نقاب زبردستی ہٹا دیا۔ یہ عمل نہ تو حادثاتی تھا اور نہ ہی اسے لمحاتی لغزش قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک دانستہ اقدام تھا، جس میں ایک عورت کی ذاتی، مذہبی اور جسمانی خودمختاری پر براہِ راست حملہ کیا گیا، اور وہ بھی صوبے کی اعلیٰ ترین انتظامی اتھارٹی کی جانب سے۔ ایک ہی لمحے میں ایک فرد کی عزت پامال ہوئی اور ریاست کے اخلاقی دعوے بے نقاب ہو گئے۔

 نقاب، اس کے بارے میں ذاتی آراء سے قطع نظر، لاکھوں مسلم خواتین کے لیے انتخاب، ایمان اور شناخت کی علامت ہے۔ اسے زبردستی اتارنا اس خوفناک پیغام کے مترادف ہے کہ طاقت عقیدے کو روند سکتی ہے اور اختیار کمزوروں کو بغیر کسی انجام کے ذلیل کر سکتا ہے۔ یہ حقیقت کہ متاثرہ خاتون ایک ڈاکٹر تھیں، جنہوں نے عوامی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے، اس ظلم کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف کے بجائے ریاست نے انہیں تماشہ بنا کر پیش کیا اور ان کی عزت کو سیاسی غرور کی بھینٹ چڑھا دیا۔

تاریخ اور روایت، حتیٰ کہ بھارت کی اپنی تہذیبی کہانیاں بھی، طاقت کے اس طرح کے غلط استعمال کے خلاف واضح تنبیہ کرتی آئی ہیں۔ ہندو اساطیر میں رامائن کا سیتا کا واقعہ ایک ابدی اخلاقی سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔ راون کے ہاتھوں اغوا اور اشوک واٹیکا میں قید کے دوران، سیتا کو بار بار دباؤ اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ ان کی عزت کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، تاکہ ان کے عزم کو توڑا جا سکے۔ رامائن کے بعض نسخوں میں یہ ذکر ملتا ہے کہ غصے اور جھنجھلاہٹ میں راون سیتا کی ساڑھی پکڑ کر انہیں بے لباس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس واقعے کو محض قید کی کہانی نہیں سمجھا جاتا بلکہ جبر اور اخلاقی انحطاط کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ راون کے عمل کی مذمت اس لیے نہیں کی جاتی کہ اس نے طاقت استعمال کی، بلکہ اس لیے کہ اس نے طاقت کا غلط استعمال کیا۔ یہ داستان اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کسی عورت کی عزت کی پامالی، خواہ جسمانی ہو یا علامتی، ہمیشہ اخلاقی ناکامی سمجھی گئی ہے، طاقت کی علامت نہیں۔ جب موجودہ دور کے رہنما، چاہے معمولی حد تک ہی سہی، ایسے رویّوں کی جھلک دکھاتے ہیں تو یہ تقابل نہ خوش آئند رہتا ہے اور نہ ہی قابلِ گریز۔

اس واقعے پر اٹھنے والا ردِعمل نہ تو حیران کن تھا اور نہ ہی بے جا۔ دنیا بھر میں آوازیں بلند ہوئیں اور اسے انسانی حقوق اور خواتین کی عزت پر حملہ قرار دیا گیا۔ ایک ایسا ملک جو دوسروں کو جمہوری اقدار پر لیکچر دیتا نہیں تھکتا، اس واقعے پر شدید سبکی کا شکار ہوا۔ اس نے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ آئینی ضمانتیں خودبخود عملی مساوات میں نہیں ڈھلتیں، خصوصاً اقلیتوں کے لیے۔ جمہوریت کا معیار بلند تقاریر یا آئینی تمہیدات سے نہیں ناپا جاتا بلکہ ان لوگوں کے روزمرہ رویّوں سے پرکھا جاتا ہے جن کے ہاتھ میں اقتدار ہوتا ہے۔ اس معاملے میں وہ رویّہ بری طرح ناکام ثابت ہوا۔

اس واقعے کو مزید تشویش ناک اس لیے بھی بناتا ہے کہ یہ کوئی تنہا مثال نہیں۔ بھارت کی حالیہ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں ریاستی طاقت کو اقلیتوں کو ڈرانے، حاشیے پر دھکیلنے یا ذلیل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ گائے کے نام پر ہونے والی ظلم و جبر امتیازی شہریت قوانین، اور مسلم گھروں اور عبادت گاہوں کو معمول کے مطابق نشانہ بنانا—یہ سب ایک ایسے رجحان کی نشان دہی کرتے ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر واقعہ الگ الگ دیکھنے پر شاید ایک استثنا لگے، مگر مجموعی طور پر یہ اختلاف، تنوع اور عزت کے لیے سکڑتی ہوئی جگہ کی ایک پریشان کن تصویر بناتے ہیں۔ خواتین، خصوصاً اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی، اس بوجھ کا سب سے زیادہ شکار رہی ہیں۔ ہراسانی، عوامی تذلیل اور شناخت کو ہتھیار بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بہار کا واقعہ اسی اخلاقی زوال کے بڑے منظرنامے کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جہاں سیاسی طاقت یہ آزمانے میں دلیر ہوتی جا رہی ہے کہ بغیر مؤثر احتساب کے وہ کہاں تک جا سکتی ہے۔ اداروں کی خاموشی یا نیم دلانہ ردِعمل، جو توازن قائم رکھنے کے لیے بنائے گئے تھے، اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

بھارتی میڈیا کا ردِعمل بھی اتنا ہی معنی خیز رہا۔ اگرچہ کچھ آوازوں نے جرأت کے ساتھ غلطی کی نشان دہی کی، مگر مرکزی دھارے کے بڑے حصے نے یا تو اس واقعے کو نظرانداز کیا، کم تر دکھایا یا انتخابی غصے کا مظاہرہ کیا۔ اقتدار سے قربت کو سچ کی تلاش پر ترجیح دینا اب ایک ایسی میڈیا ثقافت کی علامت بنتا جا رہا ہے جس میں عوامی اعتماد لازماً مجروح ہوتا ہے۔ جب صحافی اس طرح برتاؤ کریں جیسے وہ صرف اس وقت سونگھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں جب حکمرانوں کو فائدہ ہو، تو اخلاقی دیوالیہ پن ناگزیر ہو جاتا ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ ایسی قیادت کا اخلاقی جنازہ پہلے ہی اٹھ چکا ہے۔ جب اقتدار میں بیٹھے لوگ اختیار اور حق، قیادت اور جبر کے درمیان فرق بھول جائیں تو وہ اپنی اخلاقی ساکھ خود کھو دیتے ہیں۔ کوئی انتخابی فتح اس خلا کو پُر نہیں کر سکتی۔ طاقت اطاعت تو حاصل کر سکتی ہے، احترام نہیں۔ آخرکار المیہ صرف ایک عورت کی تذلیل نہیں بلکہ ان اقدار کا بتدریج زنگ آلود ہونا ہے جن پر جمہوریت فخر کرتی ہے۔ اگر قیادت خود کو درست نہ کرے، ادارے اپنی آزادی منوانے میں ناکام رہیں، اور معاشرہ “دوسروں” پر ہونے والی ناانصافیوں سے بے حس ہو جائے، تو جمہوریت کے بلند بانگ نعرے کھوکھلے ثابت ہوں گے۔ بہار کا واقعہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اخلاق کے بغیر جمہوریت ایک خالی خول ہے، اور احتساب کے بغیر طاقت محض منظم ظلم کے سوا کچھ نہیں۔

Web Desk

Comments are closed.