محترمہ بینظیر بھٹو: جمہوریت، حوصلے اور قربانی کی روشن علامت

8

 تحریر: میر شبیر علی خان بجارانی

27 دسمبر 2007 پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ اور المناک دن ہے جس نے پوری قوم کو غم، صدمے اور سوگ کی گہری کیفیت میں مبتلا کر دیا۔ اس روز راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں ایک عوامی اجتماع کے دوران محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیرِاعظم تھیں۔ جمہوریت کی روشن امید، عوامی خدمت کی عملی مثال اور مظلوم طبقات کی آواز، ایک لمحے میں خاموش کر دی گئی۔
یہ سانحہ محض ایک عظیم رہنما کی شہادت نہ تھا بلکہ پوری قوم کے لیے ایک ناقابلِ بیان المیہ تھا۔ ہر آنکھ اشکبار، ہر دل غمگین اور ہر ذہن سوالات سے بھرا ہوا تھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی قربانی نے پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک ایسا لازوال باب رقم کیا جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید درخشاں ہوتا چلا گیا اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔
محترمہ بینظیر بھٹو 21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ وہ پاکستان کے عظیم رہنما، سابق وزیرِاعظم اور آئینِ پاکستان کے معمار ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی تھیں۔ بچپن ہی سے انہیں سیاسی شعور، جمہوری اقدار اور قیادت کی تربیت ملی۔ انہوں نے سیاست کو اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھا۔ ہارورڈ یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے دوران ان کی فکری پختگی، خود اعتمادی اور قائدانہ صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں۔
1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی شہادت کے بعد، محترمہ بینظیر بھٹو نے انتہائی کٹھن اور نامساعد حالات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ آمریت کے اندھیروں میں انہوں نے جمہوریت کی شمع روشن رکھی۔ قید و بند، جلاوطنی، دھمکیوں اور مسلسل اذیتوں کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ بالآخر ان کی طویل جدوجہد رنگ لائی اور 1988 میں وہ پاکستان کی وزیرِاعظم منتخب ہوئیں، جس سے پاکستان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا۔
محترمہ بینظیر بھٹو دو مرتبہ پاکستان کی وزیرِاعظم رہیں۔ ان کے دورِ حکومت میں خواتین کے حقوق، آزادیٔ صحافت، تعلیم، صحت، سماجی بہبود اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے اہم اقدامات کیے گئے۔ وہ عوام کے دکھ درد کو محسوس کرنے والی رہنما تھیں اور ہمیشہ غریب، محروم اور پسے ہوئے طبقات کی ترجمان بن کر سامنے آئیں۔
ان کی شہادت کے بعد پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا تھا۔ ایسے میں آصف علی زرداری نے صبر، تحمل اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے پہلے “پاکستان کھپے” کا نعرہ دیا، جس نے ملک کو انتشار، نفرت اور افراتفری سے بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے “جمہوریت بہترین انتقام ہے” کا تاریخی پیغام دے کر قوم کو انتقام کے بجائے آئین، قانون اور جمہوری عمل کے راستے پر چلنے کی تلقین کی۔ ان کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوری تسلسل کو یقینی بنایا اور وہ پاکستان کے صدر منتخب ہوئے۔ ان کے دورِ صدارت میں پارلیمان کو بااختیار بنایا گیا، آئین کی بالادستی کو فروغ ملا اور جمہوری نظام کو استحکام حاصل ہوا، جو ملکی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔
آج محترمہ بینظیر بھٹو کے فرزند بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو اور والدہ محترمہ بینظیر بھٹو کے نظریات، جدوجہد اور مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری ایک متحرک، باشعور اور باصلاحیت نوجوان رہنما کے طور پر جمہوریت، وفاقِ پاکستان، عوامی حقوق اور سماجی انصاف کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی نوجوان نسل کے لیے امید، شعور اور روشن مستقبل کی علامت بنتی جا رہی ہے۔
بلاشبہ محترمہ بینظیر بھٹو کا نظریہ، قربانی اور سیاسی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک عہد اور ایک تحریک تھیں—ایسی تحریک جو آنے والی نسلوں کو جمہوریت، خدمت، حوصلے اور اصولوں کی سیاست کی راہ دکھاتی رہے گی۔

Web Desk

Comments are closed.