ادھوری سچائیاں

20

تحریر: محمد محسن اقبال
تاریخ محض تاریخ وار واقعات کی فہرست نہیں ہوتی بلکہ یہ ان سوالات، تشکیکوں اور دبے ہوئے حقائق کا مجموعہ بھی ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ مدھم ہونے کے بجائے مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جن کے بارے میں دہائیاں گزرنے کے باوجود کوئی حتمی اور متفقہ نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ تحقیقات ہوئیں، کمیشن قائم ہوئے، کتابیں لکھی گئیں، فلمیں بنیں، مگر حقیقت ہر بار ایک سراب ثابت ہوئی—دور سے واضح مگر قریب جا کر غائب۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ بالخصوص ایسے ہی معمّوں سے عبارت ہے، جہاں ریاست کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز شخصیات کے قتل اور حادثات آج بھی سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی قومی تاریخ میں تین ایسے سانحات نمایاں ہیں جنہوں نے نہ صرف ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کی ایک مستقل فضا بھی پیدا کر دی۔ ان سانحات کا تعلق پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان، عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیرِاعظم محترمہ بینظیر بھٹو، اور صدر جنرل محمد ضیاء الحق سے ہے۔ نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے بالکل مختلف یہ تینوں شخصیات ایک مشترکہ المیے میں جُڑ گئیں—ایسی موت، جس کے اصل اسباب آج تک پوری طرح سامنے نہ آ سکے۔
27 دسمبر 2007 پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے۔ اس روز محترمہ بینظیر بھٹو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد اپنی گاڑی میں سوار ہوئیں تو چند ہی لمحوں بعد فائرنگ اور دھماکے کی آوازوں نے فضا کو دہلا دیا۔ چند گھنٹوں کے اندر یہ خبر پوری دنیا میں پھیل چکی تھی کہ پاکستان کی سابق وزیرِاعظم شہید ہو چکی ہیں۔ وہ نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن تھیں بلکہ ایک ایسے وقت میں سیاست میں سرگرم تھیں جب ملک شدید سیاسی بے یقینی، انتہاپسندی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔
بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد حکومتِ پاکستان نے متعدد تحقیقات کرائیں۔ اقوامِ متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن قائم ہوا، جس کی رپورٹ اپریل 2010 میں منظرِ عام پر آئی۔ اس رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ بینظیر بھٹو کو مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی، جائے وقوعہ کو شواہد محفوظ کرنے کے بجائے فوری طور پر دھو دیا گیا، اور تفتیش میں سنگین غفلت برتی گئی۔ تاہم رپورٹ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ قتل کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔ یوں ایک عالمی ادارے کی تحقیق کے باوجود اصل سوال تشنہ ہی رہا کہ آخر اس قتل کے پیچھے کون تھا اور کیوں؟
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ راولپنڈی پاکستان کی تاریخ کے کسی عظیم سانحے کا گواہ بنا۔ 16 اکتوبر 1951 کو پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کمپنی باغ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کر رہے تھے کہ اچانک گولی چلنے کی آواز آئی اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ قاتل سعید اکبر کو پولیس نے فوراً گولی مار دی، جس سے تفتیش کا سب سے بنیادی دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ بعد ازاں ایک انکوائری کمیشن قائم ہوا، مگر رپورٹ مکمل طور پر شائع نہ ہو سکی۔
لیاقت علی خان کی شہادت کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے گئے—کبھی اسے سرد جنگ کے تناظر میں امریکہ اور سوویت یونین کی کشمکش سے جوڑا گیا، کبھی افغانستان اور قبائلی سیاست کا حوالہ دیا گیا، اور کبھی اندرونی طاقتوں پر انگلیاں اٹھیں۔ مگر ریاست کبھی اس نتیجے تک نہ پہنچ سکی جسے قوم حتمی سچ کہہ سکتی۔ اس قتل کے بعد پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی ایک ایسی لہر اٹھی جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔
تیسرا بڑا معمہ 17 اگست 1988 کو پیش آیا، جب بہاولپور سے اڑنے والا پاک فضائیہ کا سی-130 طیارہ چند منٹ بعد ہی زمین سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمان، پاکستان کے کئی اعلیٰ فوجی افسران اور پاکستان میں تعینات امریکی سفیر آرنلڈ ریفل ہلاک ہو گئے۔ ایک ہی واقعے میں اتنی اہم شخصیات کی ہلاکت دنیا بھر میں حیرت اور تشویش کا باعث بنی۔
حادثے کے بعد تکنیکی تحقیقات ہوئیں، امریکی اور پاکستانی ماہرین نے مختلف امکانات پر غور کیا، جن میں میکانکی خرابی، زہریلی گیس، دھماکہ اور تخریب کاری شامل تھیں۔ تاہم بلیک باکس سے کوئی فیصلہ کن ثبوت سامنے نہ آ سکا۔ شواہد کے ضائع ہونے، متضاد بیانات اور وقت کے ساتھ فائلوں کے بند ہو جانے نے اس حادثے کو بھی ایک مستقل راز بنا دیا۔
یہ تینوں شخصیات پاکستان کے سیاسی اور ریاستی سفر کے مختلف مگر نہایت اہم مراحل کی نمائندگی کرتی تھیں۔ لیاقت علی خان جمہوری تسلسل کی بنیاد رکھ رہے تھے، بینظیر بھٹو آمریت کے بعد جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، اور جنرل ضیاء الحق ایک طویل فوجی دور کے اختتام پر کھڑے تھے۔ ان کی اچانک اور پراسرار اموات نے ریاست کو ہر بار ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا، مگر ان موڑوں پر کبھی شفاف احتساب اور سچائی کی جرات مندانہ تلاش نظر نہ آ سکی۔
ان واقعات کی اصل تہہ تک نہ پہنچ پانا محض ماضی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ آج بھی قومی نفسیات پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ جب ریاست اپنے ہی اعلیٰ ترین سانحات کا جواب دینے میں ناکام رہے تو عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے، افواہیں جنم لیتی ہیں، اور یہ تصور مضبوط ہوتا ہے کہ طاقت ہمیشہ سچ پر غالب آتی ہے۔
قومیں صرف یادگاریں بنا کر آگے نہیں بڑھتیں بلکہ سچ کا سامنا کر کے آگے بڑھتی ہیں۔ جب تک پاکستان مصلحت، خوف اور خاموشی کی زنجیروں کو توڑ کر اپنے ماضی کے ان سیاہ ابواب کو ایمانداری سے نہیں کھولتا، یہ سوال زندہ رہیں گے۔ یہ بے جواب سوال محض تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ایک جاری قومی داستان کے ادھورے باب ہیں، جو آج بھی تکمیل کے منتظر ہیں۔

Web Desk

Comments are closed.