✍️ دانش مینگل
سانحہ نوشکی نے ایک بار پھر یہ کڑوا مگر ضروری سبق دیا ہے کہ چاہے تنازعہ کتنا ہی سنگین اور پیچیدہ کیوں نہ ہو، اس کا حل طاقت، انتقام یا جلد بازی میں نہیں بلکہ بات چیت، صبر، تحمل اور بروقت مصالحت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
اگر اس المناک واقعے میں ملوث فریقین نے وقت پر ہوش کے ساتھ کام لیا، اپنے غصے پر قابو پایا اور معتبر بزرگوں و کمیونٹی رہنماؤں کے ذریعے مسئلے کو گفت و شنید سے حل کرنے کی کوشش کی، تو آج چار قیمتی انسانی جانیں ضائع نہ ہوتیں۔ یہ سانحہ صرف چند خاندانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی گونج پورے بلوچستان میں محسوس کی جا رہی ہے۔ ہر ذی شعور انسان سوچنے پر مجبور ہے کہ ان لواحقین پر کیا گزری ہوگی—ماں باپ، بیوائیں، یتیم بچے اور اجڑے گھرانے۔ یہ سب ایک لمحے کی ضد، غصے اور عدم برداشت کا نتیجہ ہیں۔
انسانی جان کا ضیاع ایسا زخم ہے جو برسوں نہیں بلکہ نسلوں تک مندمل نہیں ہوتا۔ اگر ایسے سانحات کے بعد حالات کو سنجیدگی سے کنٹرول نہ کیا جائے، بروقت مصالحت نہ کرائی جائے اور نفرت کی آگ کو نظرانداز کیا جائے تو دشمنی طویل اور خونی سلسلے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ دشمنی صرف ایک واقعے تک محدود نہیں رہتی بلکہ نسل در نسل چلتی ہے اور خاندان کے ایک فرد کے باقی رہنے تک انتقام کی آگ سلگتی رہتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس کی مثالیں ہر جگہ موجود ہیں۔
ہمیں اجتماعی طور پر سمجھنا چاہیے کہ ہر قسم کے تنازعہ—ذاتی، قبائلی یا سماجی—کا فوری حل ضروری ہے۔ اس عمل میں علاقے کے معتبرین، قبائلی عمائدین، علماء کرام اور باشعور افراد کا کردار نہایت اہم اور فیصلہ کن ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی بات سنی جاتی ہے اور جو اپنی دانائی اور تجربے سے بگڑتے معاملات کو سنبھال سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک رویہ یہ بھی پروان چڑھ چکا ہے کہ “یہ ہمارا مسئلہ نہیں، فلاں کا ہے، وہ جانے۔” یہ سوچ نہ صرف غلط بلکہ خطرناک ہے۔ آج اگر ہم خاموش تماشائی رہیں گے تو کل یہی آگ ہمارے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ ایسے لوگ جو تنازعات کو مزید الجھاتے ہیں، افواہوں کو ہوا دیتے ہیں اور خود بیٹھ کر تماشہ دیکھتے ہیں، درحقیقت فساد کے شریک ہیں۔
اسلام ہمیں واضح تعلیم دیتا ہے کہ دو لوگوں کے درمیان صلح کرانا بہت بڑا اجر رکھتا ہے، جبکہ فساد پھیلانا، نفرت کو ہوا دینا اور آگ بھڑکانا سخت گناہ ہے۔ قرآن و سنت میں ایسے لوگوں کے لیے سخت وعیدیں موجود ہیں اور اللہ کی پکڑ واقعی شدید ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نوشکی جیسے سانحات سے سبق سیکھیں۔ ہماری ذمہ داری صرف تعزیت یا افسوس تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عملی طور پر یہ عہد کریں کہ جہاں بھی تنازعہ پیدا ہوگا، ہم خاموش تماشائی نہیں بنیں گے، بروقت مداخلت کریں گے، بات چیت کو فروغ دیں گے، صبر و تحمل کا پیغام دیں گے اور مصالحت کے لیے کردار ادا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح اور غلط میں تمیز عطا فرمائے، دلوں کو نرم کرے، صبر و تحمل نصیب کرے اور ایسے معاملات میں اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ اللہ نوشکی کے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کو اپنی جوار رحمت
Prev Post
Comments are closed.